دریائے سوات میں لوگوں و گاڑیوں کے نقل وحرکت، ماہی گیری، نہانے، سیر وتفریح، ندی نالوں، نہروں میں لوگوں کے اجتماعات اور سلیپر و لکڑیاں جمع کرنے و نکالنے پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد کردی ۔
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سوات سلیم جان نے دریائے سوات میں لوگوں و گاڑیوں کے نقل وحرکت،ماہی گیری،نہانے، سیر وتفریح،ندی نالوں، نہروں میں لوگوں کے اجتماعات اور سلیپر و لکڑیاں جمع کرنے و نکالنے پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد کردی ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ مسلسل شدید بارشوں اور اپ اسٹریم آبی ذخائر سے اخراج میں اضافے کی وجہ سے دریائے سوات میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ خطرے کے نشان کے قریب یا اس سے اوپر بہہ رہا ہے جس سے ملحقہ علاقوں میں عوامی زندگی اور املاک کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔
حکم نامے میں مذید کہا گیا ہےکہ سیلاب، دریا کے کنارے کٹاؤ کا واضح خطرہ موجود ہے اور پانی کی سطح میں اچانک اضافہ انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے جو دریا کے کناروں کے قریب جاتے ہیں یا ماہی گیری، تفریحی یا گاڑیوں کی نقل و حرکت میں مشغول ہوتے ہیں جس سے بچاؤ اور امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ پیش آتی ہے اسلئے دفعہ 144 لگانا ضروری ہے جو دو ماہ کیلئے نافذ العمل رہے گا۔
یہ بھی پڑھ لیں:پی ٹی آئی پارلیمانی اجلاس میں احتجاج کیلئے حکمت عملی اور مذاکرات پر زور
خلاف ورزی کی صورت میں دفعہ 188 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی.





