پشاور ہائی کورٹ نےخواتین کےبیوٹی کلینک پر غیر قانونی چھاپے پر اسسٹنٹ کمشنر کی سرزنش کردی

پشاور(کامران علی شاہ)پشاور ہائی کورٹ نے ایک غیر معمولی فیصلے میں خواتین کے نجی بیوٹی کلینک پر اسسٹنٹ کمشنر ہارون سلیم کے غیر قانونی چھاپے کو آئین کی خلاف ورزی، اختیارات سے تجاوز اور بد نیتی پر مبنی قرار دے دیا ہے۔

یہ فیصلہ جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ٹارگٹ اینڈ ٹریٹ ایسیتھٹک کلینک کی مالکہ کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن پر سنایا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ 20 دسمبر 2024 کو اسسٹنٹ کمشنر نے کسی وارنٹ، قانونی حکم نامہ یا خواتین پولیس اہلکار کے بغیر، ایک مکمل خواتین پر مشتمل اسٹاف اور مریضوں کے کلینک میں زبردستی داخل ہو کر ایسے کمروں میں بھی مرد اہلکار بھیجے جہاں خواتین نجی علاج کے عمل سے گزر رہی تھیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس کارروائی کا مقصد کلینک کی انتظامیہ کو ایک قریبی غیر رجسٹرڈ “کوائیک” کلینک کے خلاف دائر شکایت واپس لینے پر مجبور کرنا تھا۔ متعلقہ کلینک چند روز بعد خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے بند بھی کر دیا گیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اسسٹنٹ کمشنر کے پاس لائسنس یافتہ کلینک پر چھاپہ مارنے اور اسے سیل کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہ تھا،خاتون پولیس اہلکار کے بغیر خواتین کلینک میں داخل ہونا، اور مریضوں کی پرائیویسی اور وقار کو پامال کرنا آئین کے آرٹیکل 14 کی صریح خلاف ورزی ہے۔

کلینک کے مینیجر زاہد اللہ کو بغیر گرفتاری اور قانونی کارروائی کے 6 گھنٹے تک حراست میں رکھنا، آئینی حقوق کی خلاف ورزی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہے۔

عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ کوئی بھی انتظامی افسر کسی رجسٹرڈ کلینک کے خلاف کوئی کارروائی صرف ہیلتھ کیئر کمیشن کی تحریری ہدایت اور تعاون سے ہی کرے؛خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ افسر کے خلاف توہین عدالت یا فوجداری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں : دریائے سوات کے قریب آمد و رفت، ماہی گیری اور نہانے پر دو ماہ کیلئے پابندی عائد

عدالت نےحکم دیا کہ فیصلے کی ایک کاپی چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا اور چیئرپرسن ہیلتھ کیئر کمیشن کو بھیجی جائے تاکہ ادارہ جاتی سطح پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

Scroll to Top