ایران نے اپنی سرزمین پر مقیم لاکھوں افغان شہریوں کو حکم دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ملک چھوڑ دیں، بصورتِ دیگر انہیں گرفتار کر کے ملک بدر کر دیا جائے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری ہے، تاہم اس فیصلے نے لاکھوں افغان خاندانوں کو شدید انسانی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد ایران میں سکیورٹی خدشات میں شدت آئی ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ملک میں موجود غیرقانونی یا غیررجسٹرڈ غیرملکیوں کی موجودگی سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے ان کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔
الجزیرہ رپورٹ کے مطابق مارچ 2025 سے اب تک سات لاکھ سے زائد افغان شہری ایران چھوڑ چکے ہیں، جب کہ صرف گزشتہ ماہ کے دوران دو لاکھ تیس ہزار افغان پناہ گزینوں کو واپس افغانستان روانہ کیا گیا۔ اقوام متحدہ رپورٹس کے مطابق ان افراد کو بسوں میں بھر کر افغان سرحد پر چھوڑا جا رہا ہے۔ متاثرہ خاندانوں میں بڑی تعداد خواتین، بچوں اور بزرگوں کی ہے۔
افغان شہریوں کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ فیصلہ نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ اس سے افغانوں کے خلاف نفرت اور تعصب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے خاندانی نظام ٹوٹ رہا ہے، بہت سے بچے اپنے والدین سے جدا ہو چکے ہیں، اور کئی خاندان بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔
بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ افغان پناہ گزینوں سے متعلق اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے اور اس مسئلے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر حل کرے۔





