وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ سرحد پر بھی بھارت اور ایران کی طرز کے مؤثر اور سخت انتظامات کیے جانے چاہئیں تاکہ غیرقانونی سرگرمیوں پر قابو پایا جا سکے۔
نجی ٹی وی چینل (دنیا نیوز)کے مطابق وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان میں غیرقانونی کاروبار میں بڑی تعداد افغان شہریوں کی ملوث ہے۔ ان کے مطابق افغان شہری نہ صرف ملک کی ٹرانسپورٹ پر قابض ہیں بلکہ انہوں نے مختلف شہروں میں غیرقانونی کالونیاں بھی قائم کر رکھی ہیں۔ خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ اب بھی پاکستان میں ایک سے ڈیڑھ لاکھ کے قریب افغان شہری غیرقانونی طور پر مقیم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملکی سکیورٹی اور معیشت کے تحفظ کے لیے افغانستان کے ساتھ سرحدی انتظامات کو ازسرنو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے، بالکل ویسے ہی جیسے بھارت اور ایران اپنے بارڈر پر سختی سے کنٹرول کرتے ہیں۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ دہشت گردی کی ذمہ داری ریاستی اداروں پر ڈالنا سراسر غلط اور گمراہ کن عمل ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’’علی امین گنڈا پور کے لیڈر نے دہشت گردوں کو خیبرپختونخوا میں بسایا‘‘، اور مزید کہا کہ علی امین گنڈا پور کی جانب سے وفاقی حکومت اور اداروں پر تنقید کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اندر سے بھی علی امین گنڈا پور پر تنقید کی جا رہی ہے، اور ان کے اپنے لوگ ان پر ’’دونمبری‘‘ جیسے الزامات لگا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کے بیانات کو سنجیدہ لینے کے بجائے نظر انداز کر دینا چاہیے۔
افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے واضح کیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفارتی تعلقات برقرار ہیں، اور اسلام آباد میں افغان سفارت خانہ فعال ہے۔





