ملک کے مختلف شہروں میں چینی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو گیا ہے، جس سے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حکومت اور شوگر ڈیلرز کے تمام وعدے اور دعوے ایک بار پھر دھرے کے دھرے رہ گئے۔
نجی ٹی وی چینل(جیونیوز)کے مطابق گزشتہ سال شوگر ڈیلرز نے حکومت کو چینی مہنگی نہ ہونے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے اس کی برآمد کی اجازت حاصل کی تھی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ برآمد سے ملک میں زرمبادلہ آئے گا اور مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ تاہم، زمینی حقائق اس کے برعکس نکلے۔
حکومتی اعلان تھا کہ کرشنگ سیزن سے قبل نہ چینی کی قلت ہو گی، نہ قیمتوں میں اضافہ ہو گا، اور نہ درآمد کی ضرورت پیش آئے گی، مگر اب حالات اس کے برعکس ہیں۔ نہ صرف چینی کی قیمتیں کنٹرول سے باہر ہو چکی ہیں بلکہ ملک کو چینی درآمد کرنے کی نوبت بھی آ چکی ہے۔
قیمتوں کی حالیہ صورتحال:
کراچی میں چینی کی قیمت 200 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔
لاہور میں چینی 6 روپے مہنگی ہو کر 190 روپے فی کلو پر فروخت ہو رہی ہے۔
کوئٹہ میں چینی کی قیمت میں 5 روپے کا اضافہ ہوا اور 190 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے، جہاں ایک ماہ میں مجموعی اضافہ 10 روپے فی کلو ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دسمبر 2024 میں چینی کا ایکس مل ریٹ 125 سے 130 روپے فی کلو تھا، جو اب ریٹیل سطح پر 190 سے 200 روپے کے درمیان فروخت ہو رہی ہے۔ اس شدید اضافے سے عوامی بجٹ مزید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔
سوالات اور تنقید:
ماہرین معاشیات اور عوامی حلقوں کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر چینی برآمد سے ڈالرز آئے تھے، تو اب دوبارہ درآمد پر خرچ ہونے والے قیمتی زرمبادلہ کا جواب کون دے گا؟ کیا عوام کی مشکلات اور مہنگائی کی ذمہ داری کوئی لے گا؟
اپوزیشن کی جانب سے بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات کی جائیں اور اس پورے معاملے میں ذمہ داروں کا تعین کر کے کارروائی کی جائے۔





