مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ جمہوریت ڈائیلاگ سے چلتی ہے، ڈیڈ لاک سے نہیں، جبکہ گورنر خیبر پختون خوا کی جانب سے عدم اعتماد کی بات کرنا دراصل وزیرِاعلیٰ علی امین گنڈاپور کو سیاسی فائدہ پہنچانے کے مترادف ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر کیسے اعتبار کیا جائے کہ ان کا احتجاج آئین اور قانون کے دائرے میں ہوگا؟ ماضی میں ان کے تمام احتجاج غیر آئینی اور غیر قانونی طرز عمل پر مبنی تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا پی ٹی آئی کے ماضی کے احتجاج آئینی دائرے میں تھے؟
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی نیتیں سب پر واضح ہیں، ’’آئی ایم ایف کے دفاتر کے باہر مظاہرے کس نے کیے؟ ملک کو ڈیفالٹ کی طرف دھکیلنے کی کوششیں کس نے کیں؟‘‘
رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ موجودہ حالات میں پی ٹی آئی تحریک چلانے کی نہ صلاحیت رکھتی ہے اور نہ ہی نیت، کیونکہ ان کے پاس کوئی واضح ایجنڈا نہیں۔ ان کے مطابق، ’’بات چیت سے ہی مسائل کا حل نکلتا ہے، ٹکراؤ سے صرف نقصان ہوتا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ اگر پی ٹی آئی سے بات چیت ہوتی ہے تو تمام امور زیر بحث آئیں گے، لیکن اس وقت خیبر پختون خوا حکومت کو ہٹانے کا کوئی مناسب وقت نہیں۔ تاہم، انہوں نے گورنر کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’گورنر نے اس وقت عدم اعتماد کی بات کر کے دراصل گنڈاپور کی مدد کی ہے، جو سیاسی طور پر ایک غلط اقدام ہے۔‘‘





