پاکستان اور روس کے درمیان تجارتی تعاون کی نئی راہ، لاہور سے روس تک مال بردار ٹرین اگلے ماہ چلائی جائے گی

پاکستان اور روس کے درمیان تجارتی تعاون کی نئی راہ، لاہور سے روس تک مال بردار ٹرین اگلے ماہ چلائی جائے گی

پاکستان اور روس کے درمیان تجارتی روابط کو مضبوط بنانے کی جانب ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ حکومت پاکستان نے اگلے ماہ سے لاہور سے روس تک براہ راست مال بردار ٹرین چلانے کا اعلان کر دیا ہے، جو جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارت کے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو گی۔

دفتر خارجہ کے حکام کے مطابق یہ منصوبہ پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر اگست 2025 میں شروع کیا جا رہا ہے۔ پہلی مال بردار ٹرین 16 بوگیوں پر مشتمل ہو گی، جو ایران، ترکمانستان اور قازقستان سے ہوتے ہوئے روسی سرزمین تک رسائی حاصل کرے گی۔

نجی ٹی وی چینل (ہم نیوز)کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ اس ٹرین کے ذریعے نہ صرف پاکستان سے اشیاء روس اور وسطی ایشیائی ممالک بھیجی جا سکیں گی بلکہ ان ممالک سے مختلف اشیاء پاکستان بھی درآمد کی جائیں گی۔ یہ اقدام دونوں خطوں کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور باہمی اقتصادی تعاون کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہو گا۔

مزید یہ کہ منصوبے سے مقامی صنعت، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک سیکٹر کو بھی فائدہ پہنچے گا، جبکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے روس کا دورہ کیا تھا، جہاں پاکستان اور روس کے درمیان اقتصادی تعاون پر کئی اہم معاملات زیر بحث آئے۔ اس دوران پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے پروٹوکول پر بھی دستخط کیے گئے، جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں ایک اور اہم پیشرفت سمجھی جا رہی ہے۔

تجارتی ماہرین اور اقتصادی تجزیہ کار اس منصوبے کو ’’گیم چینجر‘‘ قرار دے رہے ہیں، جو نہ صرف پاکستان کو وسطی ایشیا سے جوڑے گا بلکہ خطے میں چین، روس اور دیگر ممالک کے ساتھ ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے مضبوط معاشی روابط قائم کرنے کی راہ بھی ہموار کرے گا۔

Scroll to Top