باجوڑ میں امن قائم رکھنے کے لیے پشاور میں حکومتی و قبائلی جرگہ

پشاور:باجوڑ میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے پیش نظرپشاور میں سول سیکرٹریٹ میں منگل کو ایک اعلیٰ سطحی جرگہ منعقد ہوا جس میں خیبرپختونخوا حکومت، پولیس، سیکیورٹی فورسز، باجوڑ کی سیاسی قیادت، قبائلی عمائدین اور مذہبی اسکالرز نے شرکت کی۔

جرگے کا مقصد حالیہ دہشت گردانہ حملوں کی روشنی میں علاقے کی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا اور مستقبل کے حفاظتی اقدامات کو مزید موثر بنانا تھا۔

جرگے میں گزشتہ دو مہینوں کے دوران باجوڑ میں ہونے والے مہلک حملوں میں شہید ہونے والے افراد کو خراج عقیدت پیش کیا گیا، جن میں مولانا خان زیب، اسسٹنٹ کمشنر ناواگئی فیصل اسماعیل، تحصیلدار عبدالوکیل اور سیکیورٹی فورسز کے متعدد اہلکار شامل ہیں۔

شرکاء نے باجوڑ کے عوام اور قبائلی عمائدین کی امن قائم رکھنے کی قربانیوں کو سراہا اور حکومت، عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ جرگے نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مستقبل میں حفاظتی اقدامات مقامی آبادی کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔

قائم مقام چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل آف پولیس نے شرکاء کو یقین دلایا کہ حکومت عوامی تحفظات سے آگاہ ہے اور امن کی بحالی کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔ انہوں نے دہشت گرد عناصر کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں، باہمی اعتماد اور کمیونٹی کی شمولیت کی اہمیت پر زور دیا۔

جرگے نے تمام سیاسی جماعتوں، قبائلی عمائدین، عام عوام، صوبائی حکومت، مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فیصلہ کن کارروائیوں کا اعلان کیا۔

عسکریت پسندوں کو انٹیلی جنس کی بنیاد پر نشانہ بنانے کا منصوبہ بھی پیش کیا گیا، جس کا مقصد شہریوں کی مشکلات کو کم کرنا ہے۔

قائم مقام چیف سیکرٹری نے باجوڑ کو عسکریت پسندی سے آزاد کرانے کا عزم ظاہر کیا اور ضلعی انتظامیہ و پولیس کو ہدایت کی کہ وہ حکومتی نمائندوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، عوامی شخصیات اور قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک رابطہ کمیٹی قائم کریں جو ہفتہ وار اجلاس کرکے امن و امان برقرار رکھنے کی حکمت عملی وضع کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں : اے این پی کا مولانا خانزیب کے قتل کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ

جرگے نے شہداء کے لیے معاوضہ، بھتہ خوری کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی اور دیگر متعلقہ خدشات کو صوبائی حکومت کی توجہ میں لانے کا فیصلہ کیا۔ جرگے کا اختتام خطے میں امن و استحکام کے لیے اجتماعی دعا کے ساتھ ہوا۔

Scroll to Top