نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر پی ٹی آئی حکومت مزید 6 ماہ برسر اقتدار رہتی تو پاکستان یقینی طور پر دیوالیہ ہو چکا ہوتا، تاہم موجودہ حکومت نے بروقت اور مشکل فیصلے کرتے ہوئے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا۔
نجی ٹی وی چینل (دنیا نیوز )کیمطابق نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ملک میں اب معاشی استحکام آ چکا ہے اور ہماری حکومت کا مقصد ہے کہ پاکستان کو جلد جی 20 ممالک کی صف میں شامل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ’’اوورسیز پاکستانی ملک کا سرمایہ ہیں، ان کی خدمات اور ترسیلات زر پاکستان کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔’’ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت کی کوششوں سے صرف تین سال کی مدت میں معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے، اور جی ڈی پی گروتھ میں اضافہ ہوا ہے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے بھی پاکستان کی معاشی کارکردگی کے معترف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد ایک مشکل مگر ضروری فیصلہ تھا جو ملک کو معاشی تباہی سے بچانے کے لیے کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے ڈیفالٹ کا خطرہ دفن کر دیا ہے، مہنگائی میں کمی آ رہی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کا سلسلہ جاری ہے۔‘‘ان کے مطابق، پاکستان اب سفارتی سطح پر بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے اور علاقائی روابط کو فروغ دے رہا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف مؤقف واضح کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اپنے حالیہ افغانستان کے دورے کے دوران ہمسایہ ملک کو واضح پیغام دیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ہم افغانستان کے خیرخواہ ہیں، چاہتے ہیں کہ وہاں ترقی و خوشحالی ہو تاکہ خطہ امن اور استحکام کی طرف بڑھے۔‘‘





