ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اتوار کو وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچیں گے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی، تجارتی اور ثقافتی روابط کے تسلسل کا اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
نجی ٹی وی چینل (دنیا نیوز )کے مطابق ایرانی صدر کے سیاسی مشیر مہدی سنائی کے مطابق، ڈاکٹر مسعود پزشکیان دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کے علاوہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی سے بھی اہم ملاقاتیں کریں گے۔
ان ملاقاتوں میں سیاسی، اقتصادی، مذہبی اور ثقافتی تعاون کو مزید فروغ دینے پر بات چیت کی جائے گی۔
ایرانی مشیر کے مطابق، اس دورے کا ایک اہم مقصد پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی تبادلے کو موجودہ 3 ارب ڈالر سے تجاوز کروانا اور سرحدی و صوبائی سطح پر تعاون کو وسعت دینا ہے۔
دونوں ممالک توانائی، سیکیورٹی، ٹرانسپورٹ اور بارڈر مینجمنٹ سمیت مختلف شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر مسعود پزشکیان گزشتہ دو برسوں میں پاکستان کا دورہ کرنے والے دوسرے ایرانی صدر ہوں گے۔ اس سے قبل اپریل 2024 میں سابق صدر ابراہیم رئیسی نے پاکستان کا تین روزہ سرکاری دورہ کیا تھا، جس میں کئی اہم معاہدے طے پائے تھے۔
دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی چند روز قبل ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کی باضابطہ تصدیق کی تھی، اور اسے دوطرفہ تعلقات کی نئی جہتوں میں پیش رفت قرار دیا تھا۔
ایران اور پاکستان کے درمیان حالیہ مہینوں میں تجارتی، سیکیورٹی اور سرحدی تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور ماہرین اس دورے کو خطے میں امن و استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں۔





