انسانی اسمگلنگ کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب، مرکزی ملزم چارسدہ سے گرفتار

چارسدہ: فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ میں کارروائی کرتے ہوئے انسانی اسمگلنگ کے ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کا سرغنہ گرفتار کرلیا جو نوجوانوں کو غیر قانونی طریقے سے یورپ منتقل کرنے میں ملوث تھا۔

ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق یہ کارروائی ڈی جی ایف آئی اے رفعت مختار راجا کی خصوصی ہدایات پر کی گئی جس کا مقصد لیبیا کے راستے یورپ جانے والے خطرناک انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنا تھا۔

گرفتار شخص کی شناخت عادل عرف شیر خان کے نام سے ہوئی ہےجو اس نیٹ ورک کا مرکزی کردار اور ماسٹر مائنڈ بتایا جاتا ہے۔

حکام کے مطابق عادل واٹس ایپ کے ذریعے لوگوں سے رابطے کرتا اور انہیں جعلی ویزے و دستاویزات فراہم کرتا تھا۔ متاثرین کو پہلے لیبیا پہنچایا جاتا، جہاں سے انہیں کشتیوں کے ذریعے خطرناک سمندری راستے سے یورپ روانہ کیا جاتا۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ نیٹ ورک کے دیگر کارندے، جن میں صدام، درویش خان اور الیاس خان شامل ہیں، پہلے ہی حراست میں لیے جا چکے ہیں، جنہوں نے تفتیش کے دوران عادل کی نشاندہی کی۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزم کو خفیہ اطلاع کی بنیاد پر چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا ہے اور اب اس سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ نیٹ ورک کے باقی ارکان کو بھی گرفتار کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں : نیوٹویوٹا یارِس آسان اقساط پر حاصل کرنے والوں کیلئے اہم خبر

ایجنسی کے مطابق یہ نیٹ ورک نہ صرف نوجوانوں کے خوابوں کا سودا کرتا تھا بلکہ ان کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال رہا تھا۔ مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔

Scroll to Top