عمر ایوب کو غیر آئینی طریقے سے نکالا گیا، بیرسٹر گوہر کا بڑا قانونی اقدام

عمر ایوب کو غیر آئینی طریقے سے نکالا گیا، بیرسٹر گوہر کا بڑا قانونی اقدام

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے پارٹی کے سینئر رہنما عمر ایوب کی نااہلی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف ہونے والی کارروائیاں آئین و قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے عدالت میں پیش ہو کر مؤقف اپنایا کہ عمر ایوب کو آئینی تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے عوامی نمائندگی سے محروم کیا گیا۔ نجی ٹی وی چینل(دنیا نیوز) سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے نہ تو پی ٹی آئی کو نوٹس دیا اور نہ ہی اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے کوئی باقاعدہ ریفرنس موصول ہوا۔

انہوں نے کہا کہ، ’’ہمیں پشاور ہائیکورٹ سے انصاف کی پوری اُمید ہے۔ عمر ایوب ہم سب کا فخر ہیں، اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف بھرپور قانونی جنگ لڑیں گے۔ بانی پی ٹی آئی کی رہائی تک ہماری جدوجہد بھی جاری رہے گی۔‘‘

ادھر الیکشن کمیشن میں بھی عمر ایوب کی نااہلی سے متعلق ریفرنس پر سماعت ہوئی، جو ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل نے آگاہ کیا کہ عمر ایوب کا کیس اس وقت پشاور ہائیکورٹ میں زیرسماعت ہے۔

اس پر ممبر خیبرپختونخوا نے ریمارکس دیے کہ چونکہ عمر ایوب پہلے ہی سزا یافتہ ہو چکے ہیں، اس لیے وہ آئینی طور پر نااہل ہو چکے ہیں، اور موجودہ ریفرنس کی سماعت بے معنی ہو چکی ہے۔ تاہم قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے الیکشن کمیشن نے سماعت 20 اگست تک ملتوی کر دی۔

Scroll to Top