بین الاقوامی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے بھارت کو حکم دیا ہے کہ وہ مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کے لیے بلا رکاوٹ چھوڑے اور معاہدے پر مکمل عملدرآمد کرے۔
تفصیلات کے مطابق ثالثی عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ بھارت مغربی دریاؤں جن میں دریائے جہلم، چناب اور سندھ شامل ہیں پر ایسے اقدامات نہیں کر سکتا جو پاکستان کے پانی کے حصے میں رکاوٹ ڈالیں۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ یہ فیصلہ حتمی ہے اور دونوں فریقین پر لازم ہے، اور بھارت کو اس فیصلے کی روح کے مطابق فوری طور پر عمل کرنا ہوگا۔
نجی ٹی وی چینل (اے آر وائی نیوز)کےمطابق عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کو دریاؤں پر پن بجلی منصوبوں کے نام پر ضرورت سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اور نہ ہی وہ آؤٹ لیٹس، گیٹڈ اسپِل ویز اور ٹربائن انٹیک جیسے ڈیزائن عناصر استعمال کر سکتا ہے جو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔
پاکستان نے ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے اپنے تاریخی مؤقف کی بین الاقوامی توثیق قرار دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے پر مکمل عمل درآمد کا پابند ہے اور بھارت سے توقع رکھتا ہے کہ وہ بھی عدالتی فیصلے کی پاسداری کرے گا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف معاہدے کی تشریح کرتا ہے بلکہ یہ واضح کرتا ہے کہ بھارت مغربی دریاؤں پر اپنی مرضی سے منصوبہ بندی یا کنٹرول نہیں کر سکتا۔
واضح رہے کہ رواں سال اپریل میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کر دیا تھا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جبکہ پاکستان نے معاہدے کی معطلی کو جنگی اقدام قرار دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ سندھ طاس معاہدے میں یک طرفہ معطلی کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔
اب بین الاقوامی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی قانونی توثیق بن کر سامنے آیا ہے، جس سے خطے میں آبی تنازع کے حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔





