5 بڑوں کے درمیان مذاکرات پر چیئرمین پی ٹی آئی کا ردعمل

عوام کی آواز کو دبانا جمہوریت اور ملک کیلئے خطرناک ہوگا، بیرسٹر گوہر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے خبردار کیا ہے کہ اگر عوام کی آواز کو نظرانداز کیا گیا تو یہ ملک اور جمہوریت دونوں کے لیے سنگین خطرات کا باعث بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ناانصافیوں کا سلسلہ بند کیا جائے اور عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا جائے۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب کی نااہلی سے متعلق الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن پر مزید کارروائی روک دی ہے، جو انصاف کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

انہوں نے شکوہ کیا کہ پی ٹی آئی کو مسلسل امتیازی سلوک کا سامنا ہے، کہا’’الیکشن کمیشن نے نہ ہمیں سنا، نہ کوئی نوٹس جاری کیا اور راتوں رات نااہل کر دیا گیا۔ ہم نے اکیلے تین کروڑ ووٹ لیے، جبکہ دیگر تمام جماعتیں مل کر بھی اتنے ووٹ نہیں لےسکیں۔‘‘

بیرسٹر گوہر نے زور دیا کہ سیاسی مسائل کا حل صرف اور صرف مذاکرات میں ہے۔’’ہم نے کئی بار مذاکرات کی کوشش کی لیکن جو نمائندے مذاکرات کے لیے آئے، وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات تک نہ کرا سکے،‘‘

انہوں نے موجودہ عدالتی فیصلوں اور سیاسی انتقامی کارروائیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا’’سزاؤں کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے۔ اگر عوامی مینڈیٹ کی عزت نہ کی گئی تو ملک مزید بحران کا شکار ہو جائے گا۔‘‘

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ان کی جماعت نے 180 نشستیں جیتی تھیں، لیکن آج صرف 76 نشستوں پر بٹھا دیا گیا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ ملک کو درپیش خطرات کے پیش نظر انصاف اور آئینی برابری کو یقینی بنایا جائے۔

’’ہم سے انتخابی نشان تک چھین لیا گیا، ہم نے کیا وہی کچھ کیا جو دیگر سیاسی جماعتیں کرتی آئی ہیں، پھر ہمارے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں؟

انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی یوم آزادی بھرپور جوش و جذبے سے منائے گی، اور ساتھ ہی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے بھی آواز بلند کرے گی۔

دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشنز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے مقامی آبادی بے گھر ہو جاتی ہے، جبکہ آئین کے تحت دہشتگردی کی روک تھام وفاق کی ذمہ داری ہے۔ ’’سیاسی مسائل کا حل صرف بات چیت ہے، بندوق نہیں‘‘

Scroll to Top