اسلام آباد :حکومت پاکستان نے وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم 2025 کا آغاز کر دیا ہے جس کے تحت نوجوانوں کو چھوٹے کاروبار کے قیام اور توسیع کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
اس اسکیم کا مقصد آئی ٹی، ای کامرس، فِن ٹیک، ایگریکلچر ٹیکنالوجی اور دیگر ڈیجیٹل شعبوں میں کاروبار کرنے والے نوجوانوں کو بغیر سود یا کم شرح سود والے قرضے فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں اور ملکی معیشت میں کردار ادا کریں۔
اس اسکیم کے لیے درخواست دہندگان کی عمر عام افراد کے لیے 21 سے 45 سال جبکہ آئی ٹی اور ای کامرس سے وابستہ افراد کے لیے 18 سے 45 سال مقرر کی گئی ہے۔ کم از کم میٹرک تعلیم ہونا ضروری ہے اور درخواست دہندگان پاکستانی شہری ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے درست قومی شناختی کارڈ کے حامل ہوں۔ چاہے نیا کاروبار ہو یا موجودہ، کسان واحد ملکیت، پارٹنرشپ یا رجسٹرڈ کمپنی، ہر قسم کے کاروبار کے لیے یہ اسکیم دستیاب ہے۔
قرض کی تین اقسام ہیں جن میں پہلی قسم پانچ لاکھ روپے تک مکمل بغیر سود کے دی جاتی ہے جس کی ادائیگی تین سال میں کی جا سکتی ہے۔ دوسری قسم میں پانچ لاکھ سے پندرہ لاکھ روپے تک قرض دیا جاتا ہے جس پر پانچ فیصد شرح سود لاگو ہوتی ہے اور اسے آٹھ سال میں ادا کیا جا سکتا ہے۔ تیسری قسم میں پندرہ لاکھ سے پچھہتر لاکھ روپے تک قرضے فراہم کیے جاتے ہیں جن پر سات فیصد شرح سود لاگو ہے اور ادائیگی کی مدت آٹھ سال مقرر ہے۔
یہ قرضے آئی ٹی ہارڈویئر، مشینری، ورکنگ کیپیٹل، اور کاروباری گاڑیوں کی خریداری جیسے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
نئے کاروبار شروع کرنے والوں کے لیے 10 سے 20 فیصد تک ایکوئٹی کی شرط ہے جبکہ موجودہ کاروبار رکھنے والوں کے لیے ایکوئٹی کی کوئی شرط نہیں ہے۔
اسکیم میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو اپنی درخواست آن لائن حکومت کی ویب سائٹ( https://pmybals.pmyp.gov.pk/ ) پر جمع کرانی ہوگی جہاں شناختی کارڈ کی تفصیلات، تعلیم، آمدن، کاروبار کی نوعیت اور دیگر ضروری معلومات فراہم کرنی ہوں گی۔ درخواست مکمل کرنے کے بعد صارفین اپنے درخواست کے عمل کو بھی آن لائن ٹریک کر سکتے ہیں۔
یہ اسکیم وزیراعظم کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کے تحت ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے اہم قدم ہے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ نوجوانوں کو جدید تکنیکی شعبوں میں خود مختار بناتے ہوئے پاکستان کی اقتصادی ترقی میں اضافہ کیا جائے۔





