پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کیے جانے کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ یہ نامزدگی نہ صرف سیاسی طور پر اہم سمجھی جا رہی ہے بلکہ ماضی میں عمران خان کے محمود اچکزئی سے متعلق بیانات کے تناظر میں بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
پی ٹی آئی نے سینیٹ میں اعظم سواتی کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر نامزد کیا ہے۔ یہ دونوں فیصلے اس وقت سامنے آئے جب پی ٹی آئی کے سینئر رہنما عمر ایوب خان کو 9 مئی کے مقدمات میں انسداد دہشت گردی عدالت سے سزا ملنے کے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے منصب سے ہٹا دیا گیا، اور انہیں پارلیمنٹ کی تمام قائمہ کمیٹیوں سے بھی فارغ کر دیا گیا۔
محمودخان اچکزئی کی نامزدگی کے بعد سوشل میڈیا پر عمران خان کی پرانی تقاریر ایک بار پھر وائرل ہو رہی ہیں۔ خاص طور پر ستمبر 2014 کی ایک تقریر زیر بحث ہے جس میں عمران خان نے محمود اچکزئی کو ’’ملنگ‘‘ کہہ کر مخاطب کیا اور ان پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے 8 رشتہ دار اسمبلی میں پہنچائے اور اپنے بھائی کو گورنر بنوایا۔
عمران خان کا کہنا تھا’’تھوڑی دیر کے لیے تو میں بھی پاگل بن گیا، جیسے بہت کوئی ملنگ آدمی ہے، لیکن بعد میں پتا چلا کہ یہ تو اپنے ہی رشتہ داروں کو اسمبلیوں میں بٹھانے والا شخص ہے۔‘‘
الیکشن کمیشن کی جانب سے عدالتی فیصلے کے تحت عمر ایوب اور سینیٹر شبلی فراز کی نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جا چکا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس فیصلے کے خلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے، اور ان کیسز کا حتمی فیصلہ مستقبل کی سیاسی صف بندی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔





