غذر کے نوجوان چرواہے کی حاضر دماغی نے بڑا سانحہ ٹال دیا

غذر کے نوجوان چرواہے کی حاضر دماغی نے بڑا سانحہ ٹال دیا

گلگت بلتستان کے ضلع غذر کی بلند و بالا چراگاہوں میں مویشی چراتا ایک نوجوان وصیت خان آج علاقے کے لیے ہیرو کا درجہ رکھتا ہے۔

ہر سال کی طرح اس برس بھی وہ گرمیوں کا موسم اپنے تقریباً 500 مویشیوں اور چند قریبی رشتہ داروں کے ساتھ روشن کی چراگاہوں میں گزار رہا تھا ایک ایسا علاقہ جہاں سال بھر برف اور گلیشیئر موجود رہتے ہیں۔

وصیت خان نہ کوئی سرکاری اہلکار ہے نہ کسی امدادی ادارے سے وابستہ، لیکن جب قدرت کی طرف سے آزمائش آئی تو اسی نوجوان کی حاضر دماغی نے وہ کارنامہ سرانجام دیا جو بڑے بڑے ادارے بعض اوقات نہیں کر پاتے۔

21 اگست کی رات جب وہ حسبِ معمول خیمے میں آرام کی تیاری کر رہا تھا تب سب کچھ پر سکون تھا. لیکن اگلی صبح ایک ہولناک دھماکے جیسی آواز نے اسے جگا دیا۔

خیمے سے باہر نکل کر جیسے ہی اس کی نگاہ وادی کے نالے پر پڑی تو وہ منظر چونکا دینے والا تھا, برف اور چٹانوں کا ملبہ ایک گلیشیئر کے پھٹنے سے نیچے کی طرف بہہ رہا تھا جو تیزی سے نالے کو بند کر کے ممکنہ سیلاب کی شکل اختیار کر رہا تھا۔

صورتحال کو بھانپتے ہی وصیت خان نے بغیر وقت ضائع کیے خواتین اور دیگر افراد کو محفوظ مقام کی طرف منتقل کیا اور پھر خود ننگے پہاڑوں پر دوڑ لگا دی تاکہ اس مقام تک پہنچ سکے جہاں موبائل سگنلز دستیاب تھے۔

وصیت خان نے فوراً گاؤں تالی داس میں موجود لوگوں کو اطلاع دی جو اس نالے کے عین راستے میں واقع تھا یہی وہ لمحہ تھا جس نے سب کچھ بدل دیا۔

وصیت خان کا کہنا ہے کہ انہیں معلوم تھا کہ اگر میں وقت پر اطلاع نہ دے سکا تو پورا گاؤں صفحۂ ہستی سے مٹ سکتا ہے۔

پیغام کے بعد گاؤں والوں نے بروقت محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کی کچھ ہی دیر میں جو سیلابی ریلا آیا اُس نے واقعی تالی داس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

واقعے میں ایک بھی انسانی جان کا نقصان نہیں ہوا یہ سب وصیت خان کی غیرمعمولی بصیرت اور فوری اقدام کی بدولت ممکن ہوا۔

مقامی افراد وصیت خان کو چرواہے کا روپ دھارے فرشتہ قرار دیتے ہیں، ایک سادہ سا نوجوان، جو پہاڑوں میں جانور چراتے ہوئے قدرتی آفات کا اندازہ لگانے اور اس پر ردعمل دینے کی وہ صلاحیت رکھتا ہے، جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔

وصیت خان نہ صرف غذر کے لیے بلکہ پورے گلگت بلتستان کے لیے ایک مثال ہے، ایک ایسا نوجوان جس نے یہ ثابت کیا کہ فرض شناسی اور انسان دوستی کسی بھی رسمی تعلیم یا منصب کی محتاج نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت غذر میں ایک بار پھر گلیشئیر پھٹ گیا، تباہی مچ گئی

نوٹ: خبر برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہے۔

Scroll to Top