پشاور: فاٹا انضمام کے بعد خیبرپختونخوا کا این ایف سی ایوارڈ میں 20 فیصد حصہ بنتا ہے، جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
معروف ماہر قانون طارق افغان ایڈوکیٹ نے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل فنانس کمیشن (NFC) ایوارڈ ایک آئینی تقاضا ہے جس کا اجرا آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت ہر پانچ سال بعد ہونا لازمی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2010ء میں 7ویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت وسائل کی تقسیم آبادی اور پسماندگی کی بنیاد پر کی گئی تھی، جس میں 82 فیصد وزن آبادی اور 10 فیصد غربت و پسماندگی کو دیا گیا تھا۔
لیکن بدقسمتی سے اے این پی اور پیپلز پارٹی کی حکومت کے بعد سے خیبرپختونخوا کو اس کا آئینی و مالیاتی حق مختلف طریقوں سے دبایا جا رہا ہے۔
طارق افغان نے کہا کہ جب فیصلے عوام کے بجائے کہیں اور ہوتے ہیں تو صوبے کے آئینی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مزمل اسلم کو کراچی سے کون لایا؟ بیرسٹر سیف کو کون لایا؟ وزیر اعلیٰ کس کی مرضی سے آیا؟
یہ بھی پڑھیں : سیلابی علاقوں میں ریسکیو آپریشنز کی بہتری کے لیے پاک فوج طلب کر لی گئی
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر آج خیبرپختونخوا میں اے این پی یا پیپلز پارٹی کی حکومت ہوتی تو وہ اس سرزمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر جدوجہد کرتے، چاہے وہ عدالت ہو، اسمبلی ہو یا سڑکوں پر احتجاج۔
ماہر قانون کے مطابق این ایف سی ایوارڈ کا التوا اور صوبے کو مالیاتی اختیارات نہ دینا نہ صرف آئینی خلاف ورزی ہے بلکہ وفاقی اکائیوں کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں فاٹا کے انضمام کے بعد مالی و انتظامی ذمہ داریاں بڑھ چکی ہیں، جس کے لیے بروقت اور منصفانہ مالی وسائل کی فراہمی ناگزیر ہے۔





