پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے کالاش کمیونٹی خصوصاً مقامی خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے شادی سے متعلق پاکستان کا پہلا قانون متعارف کرانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔
اس حوالے سے صوبائی وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور ایڈووکیٹ آفتاب عالم کی زیر صدارت کابینہ کی قانون ساز کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ حاجی رنگریز خان، ایم پی اے منیر حسین لغمانی، ایڈووکیٹ جنرل، سیکرٹری قانون اختر سعید ترک، سیکرٹری بورڈ آف ریونیو ارشاد احمد، سیکرٹری ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ محمد یونس اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں دو اہم قانون سازی امور پر غور کیا گیا، جن میں ایک نکتہ صوبائی اور علاقائی ٹرانسپورٹ اتھارٹیز کے سیکرٹریز کو عدالتی اختیارات دینے سے متعلق تھا۔ قانونی ماہرین نے بتایا کہ یہ اختیارات فوجداری ضابطہ اخلاق 1898 کے سیکشن 14-A کے تحت دیے جا سکتے ہیں، جس میں حالیہ ترمیم کے بعد موٹر وہیکل سے متعلق معاملات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اس قانون کے تحت ٹرانسپورٹ حکام کو کرایہ میں بے ضابطگی، زائد مسافر بٹھانے جیسے جرائم پر کارروائی کا اختیار حاصل ہوگا، جو ٹرانسپورٹ سیکٹر میں مؤثر نگرانی کو یقینی بنائے گا۔
اجلاس میں خیبرپختونخوا کالاش میریج بل 2025 پر بھی تفصیل سے بات چیت کی گئی جو کہ پاکستان میں کالاش کمیونٹی کے لیے پہلی مرتبہ مخصوص قانون سازی ہوگی۔ کالاش ایک منفرد مذہبی و ثقافتی اقلیتی برادری ہے، جس کی روایات کو اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسکو نے 2018 میں “انسانی تہذیب کا غیر مادی ثقافتی ورثہ” قرار دیا تھا۔
بل کے تحت شادی، طلاق، وراثت اور بچوں کی حوالگی جیسے امور کو قانونی تحفظ دیا جائے گا۔ اس وقت کالاش کمیونٹی کو شادی کی قانونی دستاویزات نہ ہونے، وراثتی تنازعات اور خواتین کے تحفظ کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایکسائز پولیس کی پشاور میں بڑی کاروائی، قیمتی نوادرات برآمد کرلئے
یہ مجوزہ قانون کالاش نمائندوں، مذہبی رہنماؤں اور قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد ترتیب دیا گیا ہے۔ لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے اس بل کو صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کی سفارش کی ہے۔ قانون کے نفاذ کے بعد نہ صرف کالاش خواتین بااختیار ہوں گی بلکہ زبردستی کی شادیوں کی روک تھام اور بچوں کے حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔





