پشاور : خیبر پختونخوا حکومت نے سیلاب کی جاری صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سوات، دیر اور چترال میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد پر 3 ستمبر تک پابندی عائد کر دی ہے۔
اس اقدام کا مقصد حفاظتی اور انتظامی چیلنجوں کے مدنظر غیر ملکیوں کی آمد کو وقتی طور پر مؤخر کرنا بتایا گیا ہے، تاہم اس فیصلے نے عوام اور کاروباری شعبے میں شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔
متاثرین کے لیے بیرونی امداد پہنچانے میں رکاوٹوں کے باوجود سیاحتی کاروباری ادارے اس پابندی کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ قدم سیاحتی شعبے اور مقامی معیشت کو سخت نقصان پہنچا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ملاکنڈ کے ضلعی امیر مفتی کفایت اللہ ہمیشہ کے لیے دنیا سے رخصت ہو گئے
غیر ملکی سیاحوں کے پہلے سے طے شدہ دورے متاثر ہونے سے املاک اور خدمات سے وابستہ افراد کو مالی خسارہ ہو رہا ہے۔
عوامی اور کاروباری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت مخصوص علاقوں میں بنیادی حفاظتی انتظامات کو یقینی بناتے ہوئے اس پابندی کو فوری ختم کرے تاکہ سیاحتی سرگرمیاں واپس بحال کی جا سکیں اور مقامی معیشت کو سہارا مل سکے۔





