خیبر پختونخوا حکومت نے افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ افغانستان اس وقت تباہ کن زلزلے سے شدید متاثر ہے اور مہاجرین کی واپسی کا بوجھ غربت کے شکار اس ملک کے لیے ناقابل برداشت ہے۔
نجی ٹی وی چینل (ایکسپریس نیوز)کے مطابق بیرسٹر سیف نے کہا کہ انسانی ہمدردی اور خیر سگالی کے جذبے کے تحت افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل معطل کیا جانا چاہیے کیونکہ حالیہ زلزلے میں جاں بحق اور زخمی افراد کی بڑی تعداد واپس جانے والے مہاجرین میں شامل ہے۔ ایسے مشکل حالات میں افغانستان کی مدد کرنا چاہیے، نہ کہ اسے مزید مشکلات میں دھکیلنا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مہاجرین کی واپسی پر زور دینا اخلاقی طور پر غلط ہے، خاص طور پر زلزلے سے متاثرہ ملک کے لیے یہ سنبھالنا ممکن نہیں۔ پاکستان، بطور پڑوسی اور مسلمان ملک، کو اس نازک وقت میں بھرپور تعاون اور مدد فراہم کرنی چاہیے۔
خیبرپختونخوا حکومت اپنے وسائل سے بڑھ کر افغان زلزلہ متاثرین کی مدد کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے افغان سفیر سے ملاقات میں متاثرین کو صحت کی مفت سہولیات سمیت ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، اور 35 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان افغان حکام کے حوالے کیا جا چکا ہے۔
یہ موقف پاکستان کی انسانی اور اخلاقی ذمہ داری کو اجاگر کرتا ہے، تاکہ افغانستان کو اس مشکل وقت میں مناسب مدد فراہم کی جا سکے۔





