پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے درمیان سیاسی ہم آہنگی میں واضح دراڑ پیدا ہوگئی ہے۔
نجی ٹی وی چینل(اے آر وائی )کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں، جس کے بعد محمود اچکزئی ناراض ہو کر بلوچستان روانہ ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق تنازع اس وقت پیدا ہوا جب پی ٹی آئی قیادت نے حکمِ امتناع (اسٹے آرڈر) کے تحت عمر ایوب کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔
پارٹی کی جانب سے محمود اچکزئی سے یہ توقع کی گئی کہ وہ میڈیا کے سامنے بانی پی ٹی آئی کا شکریہ ادا کریں اور اپوزیشن لیڈر کا عہدہ اس وقت تک قبول نہ کریں جب تک اسٹے آرڈر برقرار ہے۔
ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا’’آپ لوگ چاہتے ہی نہیں کہ میں اپوزیشن لیڈر بنوں۔‘‘اس کے بعد وہ اسلام آباد چھوڑ کر بلوچستان روانہ ہوگئے۔
باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے کے فیصلے پر خود پی ٹی آئی کی صفوں میں بھی اختلافات موجود ہیں۔ بعض رہنماؤں نے نہ صرف محمود اچکزئی بلکہ اعظم سواتی کی سینیٹ میں بطور اپوزیشن لیڈر نامزدگی پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں۔
پارلیمانی کمیٹی کے چند ارکان کا موقف ہے کہ پارٹی میں اپوزیشن لیڈر کی ذمہ داری نبھانے کے لیے کئی اہل اور باصلاحیت رہنما موجود ہیں، جبکہ ایک دھڑا بانی پی ٹی آئی کے فیصلے کو حتمی اور ناقابلِ تنقید قرار دے رہا ہے۔
رابطہ کرنے پر محمود خان اچکزئی نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس سے اس معاملے کی حساسیت اور سنگینی مزید واضح ہوتی ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ اختلافات نہ صرف اپوزیشن کی متحدہ حکمت عملی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ مستقبل قریب میں اپوزیشن بینچوں پر ایک نئی صف بندی کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔





