ایشیا کپ ٹی 20 ٹورنامنٹ سے پاکستان کی دستبرداری کی صورت میں ملک کو ساڑھے تین ارب سے ساڑھے چار ارب روپے تک کا بھاری مالی نقصان ہوسکتا تھا۔
نجی ٹی وی چینل (ہم نیوز)کے مطابق اگر پاکستان نے ایونٹ کا بائیکاٹ کیا ہوتا تو نشریاتی معاہدوں اور اسپانسرشپس سے حاصل ہونے والی متوقع آمدنی ضائع ہوجاتی، جس میں سونی پکچرز کا 48 ارب روپے کا نشریاتی معاہدہ بھی متاثر ہو سکتا تھا۔
واضح رہے کہ ایشین کرکٹ کونسل کی کل آمدنی کا 75 فیصد حصہ پانچ ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک بھارت، پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش اور افغانستان میں برابر تقسیم ہوتا ہے، جہاں ہر ملک کو تقریباً 15 فیصد ملتا ہے۔ باقی 25 فیصد ایسوسی ایٹ ممالک کے درمیان تقسیم کیا جاتا ہے۔
ایشیا کپ سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو نشریاتی حقوق، اسپانسرشپس اور ٹکٹوں کی فروخت سے 12 سے 16 ملین ڈالر کی آمدنی کی توقع تھی، جو اگر پاکستان ایونٹ سے باہر ہوتا تو ضائع ہوجاتی۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث پاک بھارت میچ کے ریفری اینڈی پائی کرافٹ نے دونوں ٹیموں کے کپتانوں کو ہاتھ ملانے سے روک دیا تھا، جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اینڈی پائی کرافٹ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔
یہ مالیاتی خسارہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے بڑا دھچکا ہوتا اور کرکٹ کے فروغ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا تھا۔ اس لیے پاکستان کی مکمل شرکت اور کامیابی ملکی کرکٹ کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے۔





