راولپنڈی: راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے توشہ خانہ ٹو کیس کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ابتدائی دو شہادتوں کے بعد ہی کیس کی جھوٹ ہونے کی حقیقت واضح ہو چکی تھی۔
ان کے مطابق بانی پاکستان تحریک انصاف بھی یہی موقف رکھتے ہیں کہ جھوٹی شہادتوں کی بنیاد پر کیس ختم ہونا چاہیے۔
علی ظفر نے بتایا کہ جیل ٹرائل کی صورتحال سب کے سامنے ہے اور ہائی کورٹ نے سائفر، عدت اور توشہ خانہ کیسز کو پہلے ہی ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے القادر کیس میں بشریٰ بی بی کی ضمانت پر بھی بات کی ہے۔
بیرسٹر علی ظفر نے 27 ستمبر کے جلسے کے حوالے سے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے اس موقع پر اہم اعلانات اور بیانات کی ہدایات جاری کی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ جیل میں بانی کو سوشل میڈیا تک رسائی نہیں ملتی، جس کی وجہ سے ان کے پیغامات میں زبان کا فرق ہو سکتا ہے لیکن اصل پیغام وہی ہوتا ہے جو ٹوئٹر پر شائع ہوتا ہے۔
اس حوالے سے کوئی بھی یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ ٹوئٹر پر موجود بیانات پارٹی کی سرکاری پالیسی ہیں یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایشیا کپ میں دو قومی حریفوں کا تاریخی مصافحہ، تصویر وائرل
انہوں نے کہا کہ فی الحال مذاکرات کا کوئی سلسلہ نہیں چل رہا اور اس وقت مذاکرات کا دروازہ بند ہے۔ مستقبل میں مذاکرات کے حوالے سے کچھ کہنا مشکل ہے مگر ہمیشہ مسائل کے حل کے لیے کھلے دل کا مظاہرہ ضروری ہے۔
سیاسی معاملات پر بانی پی ٹی آئی سے بات چیت ہوتی رہتی ہے لیکن قومی اسمبلی سے استعفوں کے بارے میں نہ کوئی بات ہوئی ہے اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ موجود ہے۔





