سرکاری گاڑیاں عوام کے بجائے سیاسی جلسوں کی زینت بنیں، طارق وحید کا انکشاف

پشاور: سینئر صحافی طارق وحید نے پختون ڈیجیٹل سے گفتگو میں انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد دھرنے کے دوران سرکاری وسائل کا کھلے عام سیاسی استعمال کیا گیا، اور عوامی خدمت کے لیے مختص گاڑیوں کو پی ٹی آئی نے اپنے سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال کیا۔

طارق وحید کے مطابق عوام کے ٹیکس سے چلنے والے یہ وسائل جب سیاسی مقاصد کے لیے بروئے کار لائے جائیں تو نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ انتظامی غیرجانبداری پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔

انہوں نے پشاور میں پنشن یافتہ ملازمین کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کئی سرکاری ملازمین کی دو سے تین ماہ کی پنشن بندکر دی جاتی ہے۔

جب یہ ملازمین احتجاج کرتے ہیں تو عارضی طور پر آدھی یا مکمل پنشن بحال کی جاتی ہے، لیکن چند دن بعد دوبارہ بند کر دی جاتی ہے۔

یہ ایک ایسا ظالمانہ چکر ہے جو بار بار دہرایا جا رہا ہے، جس سے بزرگ ملازمین ذہنی اور مالی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں : ملائیشین سپہ سالار کا دورہ پاکستان، جنرل حجاج نے پاکستانی افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا

طارق وحید نے گڈ گورننس منصوبے پر بھی کڑی تنقید کی، جس کی مالیت 4 سے 5 ارب روپے بتائی گئی ہے۔ منصوبے کے تحت 138 اصلاحات کا ہدف رکھا گیا تھا، مگر ان کے مطابق اب تک صرف 14 اصلاحات مکمل ہو پائی ہیں، اور ان کی تفصیلات عوام سے خفیہ رکھی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال نہ صرف بدانتظامی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ شفافیت کے فقدان کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔ جب عوامی پیسے سے بننے والے منصوبوں کی معلومات بھی چھپائی جائیں تو اعتماد کا فقدان فطری ہے۔

Scroll to Top