گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ایمل ولی خان سے سیکیورٹی واپس لینے کے فیصلے کی کھل کر مخالفت کردی۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کو سیکیورٹی فراہم کی جانی چاہیے کیونکہ وہ مختلف خطرات اور دھمکیوں کا سامنا کرتے ہیں۔
انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے بھی بات کی اور واضح کیا کہ یہ ایوارڈ رقبے کے حساب سے دیا جاتا ہے، یکساں تقسیم ممکن نہیں۔
گورنر نے کہا کہ ہمیں ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ ترقی کے نئے دروازے کھولے گا۔
فیصل کریم کنڈی نے پنجاب میں بیرونی امداد کے ملنے کی صورت میں خیبرپختونخوا کو بھی مساوی حصہ دینے پر زور دیا تاکہ صوبے کی ترقی میں مدد مل سکے۔
صوبائیت کے موضوع پر انہوں نے کہا کہ اس پر بحث فورم “میرا پانی، میری نہریں” میں ہونی چاہیے تاکہ اس مسئلے کے حل کے لیے موثر اقدامات کیے جا سکیں۔
گورنر نے تمام سیاسی جماعتوں کو مشورہ دیا کہ وہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بھرپور فائدہ اٹھائیں تاکہ عوام کی فلاح و بہبود میں اضافہ ہو۔
انہوں نے ایڈورڈز کالج کے اختیارات واپس لینے کو بھی غلط قرار دیا اور کہا کہ پہلے یونیورسٹیاں تباہ کی گئیں، اب ایڈورڈز کالج کے فنڈز پر نظریں لگائی جا رہی ہیں جو باعث تشویش ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وزیر اعلیٰ کو اس پالیسی کو اسمبلی میں لانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: مجھ سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی،ایمل ولی خان کا ایکس پر پیغام
گورنر فیصل کریم کنڈی نے وزیر اعلیٰ کے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ انہیں آپریشنز کا علم نہیں اور کہا کہ یہ بات درست نہیں ہے۔





