وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو جس طرح ہٹایا گیا، وہ صرف بادشاہت میں ممکن ہے، اکبر ایس بابر

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو جس طرح ہٹایا گیا، وہ صرف بادشاہت میں ممکن ہے، اکبر ایس بابر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہٹائی جانے کا طریقہ صرف بادشاہت میں ممکن ہے اور جمہوریت میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔

قومی اخبار (روزنامہ جنگ ویب سائٹ)کے مطابق ان کا یہ بیان پارٹی کے اندر وزیراعلیٰ تبدیلی کے بعد سامنے آنے والی صورت حال پر تشویش کا اظہار ہے۔اکبر ایس بابر نے ایک جاری کردہ بیان میں کہا کہ پی ٹی آئی کے آئین میں بانی چیئرمین کو کوئی قانونی حیثیت یا خصوصی اختیار حاصل نہیں، اور وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے لیے پارلیمانی پارٹی کا کوئی اجلاس منعقد ہی نہیں کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمانی پارٹی میں نہ تو کسی قسم کی عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی اور نہ ہی کسی طرح کی ووٹنگ ہوئی۔

مزید کہا گیا کہ نئے پارلیمانی لیڈر کے انتخاب کے لیے پارلیمانی پارٹی میں کوئی انتخابی عمل بھی انجام نہیں پایا، جو کہ آئینی اور پارلیمانی روایات کے منافی ہے۔ اکبر ایس بابر نے انتباہ دیا کہ منتخب وزیراعلیٰ کو ہٹانے کے معاملے میں بھی قانونی ضوابط ہوتے ہیں ’’منتخب وزیراعلیٰ تو چھوڑیں، چپڑاسی کو فارغ کرنے کا بھی کسی قانونی طریقہ کار سے گزرنا پڑتا ہے‘‘ اور جس انداز میں وزیراعلیٰ کو فارغ کر کے نیا نامزد کیا گیا، وہ کسی بھی جمہوریت میں قابلِ قبول نہیں۔

ان کے اس بیان سے پارٹی میں موجودہ فیصلوں اور عمل کی شفافیت اور آئینی تقاضوں کے بارے میں سوالات اٹھ گئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر معاملات اسی طرز پر چلتے رہے تو پارٹی اور صوبائی سطح پر وسیع تر بحث اور قانونی چیلنجز جنم لے سکتے ہیں۔

Scroll to Top