وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر جنید اکبر کا ردعمل

پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صوبائی صدر جنید اکبر نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کوبانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ دیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جنید اکبر کا کہنا تھا کہ ایک منتخب وزیراعلیٰ نے صوبائی اور مرکزی حکومت سے درخواست کی ہے کہ انہیں اپنے قائد سے ملاقات کی سہولت دی جائے کیونکہ وہ عمران خان کی بدولت ہی یہ عہدہ حاصل کر سکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اپنی کابینہ کی تشکیل اور دیگر اہم امور میں رہنمائی کے لیے اپنے قائد سے ملاقات کرنا ان کا آئینی اور قانونی حق ہےجسے بلاوجہ روکا جانا غیر جمہوری اور افسوسناک ہے

پی ٹی آئی کے صوبائی صدر نے واضح کیا کہ عوامی نمائندوں کو اپنے قائد سے ملنے سے روکنا ایک غیر جمہوری رویہ ہے، جسے ہر صورت مسترد کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے گذشتہ روز بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا اعلان کیا تھا اور اس سلسلے میں خیبرپختونخواحکومت نے وفاق اور پنجاب حکومت کو الگ الگ مراسلےارسال کئے تھے۔

محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا کی جانب سے وفاقی سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری داخلہ پنجاب سے درخواست کی گئی تھی کہ ملاقات کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے جائیں تاکہ وزیر اعلیٰ کی عمران خان سے ملاقات ممکن ہو سکے۔

آج اڈیالہ جیل کے قریب داہگل ناکے پرپولیس نے وزیراعلی سہیل آفریدی کو روک دیا تھا، 2 گھنٹے تک انتظار کرنے کے بعدسہیل آفریدی اسلام آباد کی طرف روانہ ہوگئے تھے۔

روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھاکہ بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کے لیے تمام آئینی و قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے وفاقی اور پنجاب حکومت کو باضابطہ خطوط ارسال کیے گئے تھے، جن میں درخواست کی گئی کہ وزیر اعلیٰ کے پی کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جائے، تاہم ابھی تک کسی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ وزیراعظم میاں شہباز شریف کے شکر گزار ہیں جنہوں نے انہیں وزارت اعلیٰ سنبھالنے پر مبارکباد دی۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیراعظم کو واضح طور پر آگاہ کیا کہ خیبرپختونخوا ساڑھے چار کروڑ عوام کا صوبہ ہے، سیاسی اور ذاتی اختلافات کے باوجود عوام کو اس کا نقصان نہیں ہونا چاہیے۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہاکہ میں نے وزیراعظم سے گزارش کی کہ مجھے اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت دی جائے، جس پر انہوں نے کہا کہ وہ معلوم کر کے آگاہ کریں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر قائد سے ملاقات کے لیے مزید آئینی یا قانونی اقدامات کی ضرورت پیش آئی تو وہ ضرور اٹھائے جائیں گے،ہم نے ہمیشہ آئینی اور قانونی طریقے اختیار کیے ہیں، اور آئندہ بھی اسی راستے پر چلیں گے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی پر اکثر احتجاجی سیاست کا الزام لگایا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب عدالتوں سے انصاف نہ ملے تو پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، اور تحریک انصاف نے ہمیشہ پرامن احتجاج کا راستہ اپنایا ہے، جو اب بھی ایک آپشن کے طور پر موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایڈوائزری کونسل بنانے کی ضرورت پیش آئی تو وہ بطور وزیر اعلیٰ خود اس کی تشکیل کریں گے۔

سہیل آفریدی نے کہاکہ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میرے نزدیک سب سے پہلے پاکستان ہے، باقی تمام چیزیں بعد میں ہیں۔ قائداعظم بانی پاکستان ہیں اور ان کا احترام سب پر لازم ہے۔

Scroll to Top