ڈیرہ اسمٰعیل خان :جمعیت علمائے اسلام (ف) کےسربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو چکی ہے، کارکن اسلام آباد جانے کی تیاری کریں۔
مفتی محمود کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم جس جمہوریت کے علمبر دار ہیں، وہ جمہوریت، آئینی جمہوریت، اسلام کی علمبردار جمہوریت، قرآن و سنت کی علمبردار جمہوریت، عوام کی نمائندہ جمہوریت ہے، اور اگر وہاں قرآن و سنت نہیں ہے، اگر وہاں اسلام کی سربلندی نہیں ہے، اگر وہاں کلمۃ اللہ نہیں ہے، وہاں ٹرمپ اور امریکا کی غلامی ہے تو ہم ایسے نظام پر لعنت بھیجتے ہیں۔
انہوںنے کہا کہ اپنے نوجوان کو بیدار کرو اور انہیں بتاؤ کہ تمہارا مستقبل ٹرمپ کی سیاست نہیں ہے، تمہارا مستقبل یہود کی سیاست نہیں ہے، تمہارا مستقبل ہندوؤں کی سیاست نہیں ہے، تمہارا مستقبل مفتی محمود کی سیاست ہے۔
سربراہ جے یو آئی (ف) نے کارکنوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ سی پیک روٹ آپ کے لیے ہے، اسلام آباد جانےکی تیاری کریں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ میں اسٹیبلشمنٹ ، سیاستدانوں اور حکمرانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ جب 1977 میں پورے ملک میں الیکشن میں دھاندلی ہوئی اس دھاندلی کے خلاف پورے ملک میں تحریک اٹھی اوراس تحریک کی قیادت مفتی محمود نے کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ چوری سے نتائج برآمد کرنا، الیکشن میں دھاندلی کرنا، اس کے خلاف سب سے پہلی بڑی تحریک کی قیادت میرے قائد نے کی تھی، ہماری مٹھی میں یہ بات ڈال دی گئی کہ ہم پاکستان میں چوری شدہ الیکشن قبول نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ چوری 2018 میں بھی ہوئی، ہم نے کہا ہم تسلیم نہیں کرتے، 2024 میں بھی ہوئی، اس صوبے کے الیکشن میں چوری ہوئی، ہم نے نہ صوبے کی چوری کو تسلیم کیا، نہ ہم نے وفاق کی چوری کو تسلیم کیا، نہ ہم نے 2018 کی چوری کو تسلیم کیا، نہ ہم نے 2024 کی چوری کو تسلیم کیا، اور لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ پاکستان کے عوام کو ان کے ووٹ کا حق واپس نہ دلایا جائے۔





