لوئر دیر: پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے ایک منفرد اور دلکش قدم کے طور پر 14 رکنی خواتین بائیکرز کی ٹیم، جس میں سات بین الاقوامی بائکرز بھی شامل تھیں، لوئر دیر پہنچ گئی ہے۔
اس قافلے میں سات پاکستانی اور سات غیر ملکی خواتین بائیکرز نے ملک کے حسین قدرتی مناظر کا سفر طے کرتے ہوئے لوئر دیر میں خاص طور پر انتظامیہ کی جانب سے پرتپاک استقبال کیا گیا۔
یہ بائیکرز قافلہ اسلام آباد سے شروع ہو کر بشام، گلگت، ہنزہ، خنجراب، شندور اور دیر بالا کے راستے لوئر دیر پہنچا۔ پندرہ روزہ ایڈونچر سفر کے دوران قافلے نے شمالی علاقوں کی قدرتی خوبصورتی کو سراہا اور اپنے تاثرات دنیا کے سامنے رکھے۔
بین الاقوامی بائیکرز میں دو کینیڈا، تین نیوزی لینڈ، ایک برطانیہ اور ایک فرانس سے تعلق رکھنے والی خواتین شامل تھیں، جبکہ پاکستانی ٹیم میں دو خواتین عنمبر اور عائشہ کے علاوہ پانچ مرد بائیکرز حسن، معین الدین، سجاد، محبوب اور سید اعتزاز بھی موجود تھے۔
غیر ملکی بائیکرز نے پاکستان کو ایک محفوظ خوبصورت اور پرامن ملک قرار دیا اور کہا کہ یہاں کے لوگ نہایت مہمان نواز اور دوستانہ ہیں۔
انہوں نے اپنے اس تجربے کو ناقابل فراموش قرار دیتے ہوئے دنیا کو پاکستان کا اصل اور خوبصورت چہرہ دکھانے کی خواہش ظاہر کی۔
یہ بھی پڑھیں : سی ٹی ڈی اور صوابی پولیس کا کامیاب آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک، دو فرار
لوئر دیر کے مقامی افراد نے بین الاقوامی بائیکرز کا شکریہ ادا کیا اور مقامی ثقافت کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں علاقے میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے بے حد اہم ہیں اور عالمی سطح پر دیر کی پہچان بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
بائیکرز نے یقین دلایا کہ وہ اپنے اس تجربے کو دنیا بھر میں شیئر کریں گے تاکہ پاکستان کی مثبت تصویر اجاگر ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے شمالی علاقے ایڈونچر ٹورزم کے لیے بے پناہ مواقع رکھتے ہیں اور وہ دوبارہ ضرور پاکستان آنا
چاہیں گے۔
لوئر دیر میں بین الاقوامی بائیکرز کی آمد نے نہ صرف سیاحتی سرگرمیوں کو نئی توانائی دی بلکہ پاکستان کے خوبصورت پہاڑوں، وادیوں اور ثقافت کو دنیا کے سامنے روشناس کرانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔





