چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملی تو صوبائی کابینہ کو محدود رکھا جائے گا۔
اڈیالہ جیل کےباہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہاکہ اگر وزیراعلیٰ کو ملاقات سے روکا گیا تو ہم مختصر کابینہ تشکیل دینے کا فیصلہ کریں گےکیونکہ صوبے کو مکمل طور پر کابینہ کے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ بعد ازاں کابینہ میں توسیع عمران خان کی ہدایت پر کی جائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر گوہر نےکہاکہ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ خیبر پختونخوا حکومت کو کتنی گاڑیاں فراہم کی گئی تھیںتاہم جو گاڑیاں دی گئیں وہ پہلے اقوامِ متحدہ کے استعمال میں رہ چکی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاق کی ذمہ داری ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کو بہترین گاڑیاں فراہم کرے، پی ٹی آئی ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف ہے اور نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیاکہ دہشتگردی جیسے حساس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ نیشنل ایکشن پلان میں یہ بات شامل ہے کہ صوبوں کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے تاکہ وہ دہشتگردی کے خلاف مؤثر کردار ادا کرسکیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کے لیے ایک واضح ٹائم فریم طے ہونا چاہیے مگر انہیں ذلت آمیز طریقے سے واپس نہیں بھیجنا چاہیے، ہم چاہتے ہیں یہ لوگ واپس جا کر ہمارے لیے خطرہ نہ بنیں۔
پی ٹی آئی چیئرمین کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف افغانستان سمیت کسی بھی ملک کی سرزمین استعمال نہیں ہونی چاہیے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی وزیراعظم کے بلائے گئے اجلاس میں عدم شرکت کو غیرضروری تنازع نہیں بنانا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ سہیل آفریدی کی بانی چیئرمین سے ملاقات کی درخواست بالکل جائز تھی جیسا کہ ماضی میں نواز شریف اور آصف زرداری سے بھی مختلف شخصیات ملاقاتیں کرتی رہی ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ توقع ہے ہائیکورٹ کی اجازت سے وزیراعلیٰ کی بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات ہو جائے گی تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو صوبائی حکومت کو کابینہ کے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مختصر کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو مکمل اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کس کو شامل کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی چیئرمین کی ہدایت پر محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر نامزدگی کی درخواست قومی اسمبلی میں جمع کرادی گئی ہے جس پر 74 اراکین اسمبلی نے دستخط کیے ہیں۔





