خیبر پختونخوا میں گزشتہ دو ماہ کے دوران آٹے کی قیمتوں میں تقریباً 100 فیصد اضافہ ہوا ہے جو 75 روپے فی کلو سے بڑھ کر 145 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہیں۔
مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت صرف آٹھ ہفتوں میں 1,250 روپے تک بڑھ چکی ہے۔
قیمتوں میں اضافے کے باعث روٹی کے نرخ بھی بڑھ گئے ہیں اور اب صوبے بھر کے تندوروں پر 150 گرام وزنی روٹی 30 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔
آٹے کی کمی کی بنیادی وجہ پنجاب حکومت کی جانب سے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر عائد کردہ پابندی ہےجس نے سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے اور خیبر پختونخوا کی مارکیٹوں میں مہنگائی کے دباؤ کو بڑھا دیا ہے۔
اس صورتحال کے جواب میں خیبر پختونخوا حکومت نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر صدارت اجلاس کے بعد پنجاب فوڈ ڈیپارٹمنٹ کو باضابطہ خط لکھ کر اس پابندی کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ پابندی خیبر پختونخوا کے عوام کو شدید متاثر کر رہی ہے، کیونکہ صوبے کی زیادہ تر گندم اور آٹا پنجاب سے آتا ہے۔ مقامی مارکیٹیں سنگین قلت کا شکار ہیں جس کی وجہ سے صارفین کو پچھلی قیمتوں کے تقریباً دوگنے داموں پر آٹا خریدنا پڑ رہا ہے جبکہ آٹا ملز اپنی پیداوار جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔
خط میں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں گندم اور آٹے کی قیمتوں کا موازنہ بھی شامل کیا گیا ہے جس میں پابندی سے پہلے اور بعد کی صورتحال واضح کی گئی ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت نے آئین کے آرٹیکل 155(1) کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ دونوں صوبے آئینی طور پر پابند ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اور خاص طور پر گندم اور آٹے کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنائیں۔





