متحدہ عرب امارات(یو اے ای) میں شمسی توانائی اور بیٹری اسٹوریج پر مبنی دنیا کے سب سے بڑے قابلِ تجدید توانائی منصوبے کی بنیاد رکھی گئی ہے جس سے ملک میں ہزاروں نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
گلف نیوز کے مطابق صدارتی دیوان برائے ترقی و شہداء کے نائب چیئرمین، شیخ ذیاب بن محمد بن زاید النہیان نے گزشتہ روز اس اہم منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا۔
یہ منصوبہ ابوظہبی کی فیوچر انرجی کمپنی مصدراور امارات واٹر اینڈ الیکٹر سٹی کمپنی ایوییک کے اشتراک سے تیار کیا جا رہا ہے۔ منصوبے میں 5.2 گیگاواٹ کی شمسی فوٹو وولٹائک تنصیب اور 19 گیگاواٹ آور بیٹری اسٹوریج سسٹم شامل ہیں، جو دن رات ایک گیگاواٹ صاف توانائی عالمی سطح پر مسابقتی نرخوں پر فراہم کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں :سابق وزیر و معاون ڈاکٹر امجد علی کیخلاف نیب انکوائری، 22ملازمین کا ڈیٹا طلب
22 ارب درہم کی مالیت رکھنے والا یہ منصوبہ یو اے ای کے قابلِ تجدید توانائی کے سفر میں ایک نیا سنگِ میل ہے۔ منصوبے کے مکمل ہونے پر سالانہ 5.7 ملین ٹن کاربن کے اخراج میں کمی آئے گی اور دس ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
منصوبے میں جدید ٹیکنالوجیز جیسے ورچوئل پاور پلانٹ سسٹم، مصنوعی ذہانت کے ذریعے موسمی پیش گوئی اور خودکار توانائی کی تقسیم شامل ہیں، جو اسے عالمی سطح پر ایک قابلِ تقلید ماڈل بنائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں : اپر کوہستان اسکینڈل کے مرکزی ملزم اور دیگر کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع
اماراتی وزیر صنعت و جدید ٹیکنالوجی اور مصدر کے چیئرمین، ڈاکٹر سلطان احمد الجابر نے کہا کہ یہ منصوبہ یو اے ای کی صاف توانائی کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ہے اور نہ صرف ملک کے پائیدار توانائی ماڈل کو مضبوط کرے گا بلکہ عالمی توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کو بھی پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔





