پاک افغان تعلقات پر مولانا فضل الرحمان کی رائے سامنے آ گئی

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملاقات کی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال اور قومی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

ذرائع کے مطابق ملاقات بلاول بھٹو زرداری کی دعوت پر ہوئی، جسے مولانا فضل الرحمان نے قبول کیا۔ ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان نے مسکراتے ہوئے کہا آپ کے والد آصف علی زرداری اور آپ کئی بار آئے، اب ہم بھی ضرور ملاقات کے لیے آئیں گے۔

غیر رسمی گفتگو میں مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ یہ ملاقات خیرسگالی نوعیت کی تھی، اس کا کسی سیاسی ایجنڈے یا آئینی ترمیم سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں اپوزیشن لیڈر بننے میں کوئی دلچسپی نہیں اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی بات چیت ہوئی۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہمیں علم ہے کہ ہمارے پاس کتنی پارلیمانی قوت ہے، ہم اپنے دستیاب ارکان کے ساتھ اپوزیشن کا مؤثر کردار ادا کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملک و قوم کے مفاد کو ہمیشہ ترجیح دی ہے اور آئندہ بھی اسی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان تحریک انصاف کے اندر دو طرح کی سوچ پائی جاتی ہے، ندیم افضل چن

پاک افغان تعلقات پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ رویہ نرم کرنے اور لچک دکھانے کی ضرورت ہے، بیانیہ سازی اور تشہیر سے مسائل حل نہیں ہوتے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ہم افغانستان اور بھارت دونوں سے بیک وقت محاذ آرائی کریں گے تو ہماری سفارتی گہرائی متاثر ہوگی۔

مولانا فضل الرحمان نے ماضی کی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے حوالے سے جو فیصلے کیے گئے، کیا وہ واقعی عالمی اتحاد کی ضرورت تھے؟ اگر ہم افغانستان کے خلاف کسی اتحاد میں شامل ہوئے تو کیا وہ درست سمت تھی؟

رہنما جے یو آئی (ف) کا کہنا تھا کہ پاکستان کو علاقائی امن اور مفاہمت کی پالیسی اپنانی چاہیے تاکہ خطے میں استحکام اور تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

Scroll to Top