ریاض: سعودی ماہرِ فلکیات خالد الزقاق کے مطابق 2030 میں دنیا بھر کے مسلمان ایک ہی گریگورین سال میں دو مرتبہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ منائیں گے، جو ایک نایاب فلکیاتی واقعہ ہے جو تقریباً ہر 30 سے 33 سال بعد پیش آتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہجری کیلنڈر چاند کے حساب سے بنتا ہے جبکہ گریگورین (انگریزی) کیلنڈر سورج کے گرد زمین کے چکر پر مبنی ہے۔
اسی فرق کی وجہ سے رمضان کبھی جلدی اور کبھی دیر سے آتا ہے، اور ہر تین دہائیوں میں ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ رمضان ایک ہی گریگورین سال میں دو بار آجاتا ہے۔
فلکیاتی اندازوں کے مطابق پہلا رمضان 5 جنوری 2030 کے آس پاس شروع ہوگا جبکہ دوسرا رمضان 26 دسمبر 2030 کو آئے گا۔
اس طرح مسلمان اس ایک سال میں کل 36 روزے رکھیں گے ،ایک روحانی طور پر منفرد سال جو تاریخ میں یادگار بن جائے گا۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہجری سال میں صرف 354 یا 355 دن ہوتے ہیں، اس لیے رمضان گریگورین کیلنڈر سے تقریباً 11 دن پیچھے رہتا جاتا ہے۔ اسی چکر کے باعث یہ مقدس مہینہ ہر 33 سال کے بعد ایک ہی سال میں دو بار آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب نے پاکستان کو ایک ارب ڈالر مالیت کے تیل کی ادائیگی ایک سال کے لیے مؤخر کر دی
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسا آخری بار 1997 میں ہوا تھا، اور اگلی بار یہ منظر 2063 میں دیکھا جائے گا۔
اس وقت ہم 1447 ہجری میں ہیں، اور تقریباً سترہ سال سے رمضان گرمیوں میں آرہا ہے۔ لیکن اب اس کی آمد رفتہ رفتہ سردیوں میں منتقل ہورہی ہے۔
ماہرین کے مطابق 2028 سے 2037 تک رمضان سرد موسم میں آئے گا، جبکہ 2037 کے بعد یہ دوبارہ گرمیوں میں منتقل ہونا شروع ہوجائے گا۔





