وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود وہ اڈیالہ جیل میں داخل نہیں ہو سکے جہاں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے ملاقات کرنی تھی۔
پشاور ہائی کورٹ میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ انہیں اڈیالہ جیل میں ایک حوالدار نے روک دیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ بار کونسل کے انتخابات یا کسی سیاسی سرگرمی کے لیے نہیں بلکہ رول آف لا، پالیسی گائیڈ لائنز اور پارٹی امور پر رہنمائی حاصل کرنے کے لیے وہاں پہنچے تھے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’میں یہاں لایا نہیں گیا بلکہ مجھے منتخب کیا گیا ہے۔ میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں تاکہ پالیسی اور حکمت عملی کے حوالے سے رہنمائی حاصل کر سکوں۔‘‘
سہیل آفریدی نے مزید بتایا کہ انہوں نے محکمہ داخلہ کو خطوط لکھ کر پنجاب اور وفاق سے ملاقات کی اجازت طلب کی تھی اور عدالت میں بھی ملاقات کے لیے درخواست دائر کی تھی، لیکن اس کے باوجود انہیں جیل میں داخلے سے روک دیا گیا۔





