اسلام آباد: سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے موجودہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ قیادت کے پاس کوئی لائحہ عمل نہیں اور نہ ہی یہ قیادت کوئی تحریک چلانے کے قابل ہے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عمران اسماعیل نے کہا کہ پارٹی قیادت ذاتی مفاد میں مصروف ہے اور ان کی لڑائیاں اڈیالہ جانے والوں کی فہرست پر مرکوز ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ موجودہ قیادت پی ٹی آئی میں بانی پارٹی کے جیل میں ہونے کے باوجود کس مقصد کے لیے سرگرم ہے۔
سابق گورنر سندھ نے مزید کہا کہ موجودہ قیادت کو بانی پی ٹی آئی کی مشکلات کا کوئی ادراک نہیں اور یہ لوگ اپنے سیاسی مفاد کے لیے بانی کو جیل میں ڈال کر اپنی سیاست چمکا رہے ہیں۔
عمران اسماعیل نے اپنے شاہ محمود قریشی سے ملاقات کے حوالے سے بتایا کہ وہ ان سے عقیدت کے باعث ملاقات کے لیے گئے، اور پی ٹی آئی کے دیگر اسیروں سے بھی ملاقاتیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ اسیر قیادت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ درجہ حرارت کم کرنا چاہتی ہے، جس پر شاہ محمود قریشی بھی متفق ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : نئے ہوائی اڈے کب اور کہاں؟ پاکستان میں دو نئے ایئرپورٹس کی تفصیلات سامنے آ گئیں
سابق گورنر سندھ نے پارٹی قیادت کے حوالے سے کہا کہ ان کا ایجنڈا یہ ہے کہ پارٹی قیادت ایسی شخصیت کے ہاتھ میں ہو جو عقل مند اور تجربہ کار ہو۔
عمران اسماعیل نے شاہ محمود، یاسمین راشد، اعجاز چودھری اور عمر سرفراز چیمہ کو پارٹی میں سب سے بہتر قیادت قرار دیا اور کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو بہتر مشورے دینے کی صلاحیت انہی میں ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر شاہ محمود کمپرومائزڈ ہوتے تو جیل سے باہر ہوتے اور ممکنہ طور پر وزیراعظم بن جاتے۔





