پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی کے بارے میں حال ہی میں سامنے آنے والی ویڈیوز کا فرانزک کرایا جائے گا، جس کے بعد حقائق بالکل واضح ہو جائیں گے۔
اختیار ولی خان نے اپنے بیان میں کہا کہ ویڈیوز میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ سہیل آفریدی نے 9 مئی کے واقعات کے دوران مسلح گروہوں کی قیادت کی، جس سے ان کے کردار اور عوامی عہدے کے لیے اہلیت پر سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ویڈیوز میں سہیل آفریدی ہنگامہ آرائی کرنے والے مظاہرین کے ساتھ موجود ہیں اور ریاستی اہلکاروں پر پتھراؤ کی قیادت کرتے نظر آ رہے ہیں، جو براہِ راست حملوں میں ان کی شمولیت کو ظاہر کرتا ہے۔
رہنما مسلم لیگ ن نے الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف نے ویڈیو کو جعلی قرار دینے کی مہم شروع کر دی، لیکن فرانزک تحقیق کے بعد حقائق واضح ہو جائیں گے۔ اختیار ولی خان نے کہا کہ یہ کہنا کہ ویڈیوز کسی اور موقع کی ہیں، جرم کی سنگینی کو کم نہیں کرتا۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی کا کردار 9 مئی کے دیگر ملزمان کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین نوعیت کا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بطور وزیر اعلیٰ حلف اٹھانے کے باوجود سہیل آفریدی کے بیانات اور تقاریر آئینی حلف سے انحراف اور ریاستی اداروں کے خلاف عوام کو اُکسانا سنگین بغاوت کے مترادف ہے۔ اختیار ولی خان کا کہنا تھا کہ تازہ شواہد نے سہیل آفریدی اور ان کی جماعت کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔





