نادرا نے والدین کے لیے پیغام جاری کیا ہے کہ اگر ان کے بچوں کی عمر 18 سال سے زیادہ ہو چکی ہے اور انہوں نے ابھی تک اپنا قومی شناختی کارڈ نہیں بنوایا، تو وہ فوری طور پر اس کی درخواست دیں۔
ادارے کے مطابق 18 سال کی عمر میں پہلا شناختی کارڈ حاصل کرنا ایک ذمہ داری اور شہری ہونے کی پہلی علامت ہے، اور والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو یہ قانونی حق دلائیں۔
نادرا نے متعلقہ خاندانوں کو اس بارے میں ایس ایم ایس کے ذریعے مطلع کرنا شروع کر دیا ہے۔
شناختی کارڈ بنانے کے لیے والدین یا بہن بھائی کے شناختی کارڈ ہونا ضروری ہیں۔ اگر بچہ لاوارث یا سرپرست کے زیرِ سرپرستی ہے تو قانونی سرپرست اور سرپرستی کے دستاویزات ساتھ لانا لازمی ہے۔
ساتھ ہی ب فارم یا یونین کونسل، کنٹونمنٹ بورڈ سے جاری شدہ کمپیوٹرائزڈ پیدائش سرٹیفکیٹ یا نیچرلائزیشن/سٹیزن شپ سرٹیفکیٹ بھی پیش کرنا ہوں گے۔
کارڈ بنانے کے عمل میں پہلے ٹوکن حاصل کیا جاتا ہے اور اپنی باری کا انتظار کیا جاتا ہے۔ باری آنے پر بائیو میٹرک تصدیق کے لیے نادرا کے کاؤنٹر پر جانا ہوتا ہے اور والدین یا بہن بھائی میں سے کسی ایک کی بائیو میٹرک تصدیق کروانی ہوتی ہے۔
اس کے بعد ڈیٹا انٹری کے دوران ذاتی معلومات درج کروائی جاتی ہیں، تصویریں اور انگلیوں کے نشانات لیے جاتے ہیں اور فارم کی درستگی چیک کی جاتی ہے۔
فارم کی تصدیق کے لیے والدین یا بہن بھائی میں سے کسی ایک کی بائیو میٹرک تصدیق ضروری ہے، جبکہ قانونی سرپرست والے کیس میں گزیٹیڈ افسر یا عوامی نمائندے سے تصدیق کروانا لازمی ہوتا ہے۔
آخری مرحلے میں نادرا درخواست موصول ہونے کے بعد ایک مختصر انٹرویو لیتا ہے، جس میں خاندان کے بارے میں چند سوالات کیے جاتے ہیں اور جوابات دینا ضروری ہیں۔ درخواست منظور ہونے کے بعد موبائل پر پیغام آتا ہے، جس کے بعد شناختی کارڈ کی فیس مطلوبہ کیٹیگری کے مطابق آن لائن یا نادرا دفتر میں جمع کروائی جا سکتی ہے۔
ایگزیکٹو کیٹگری میں سات دن کے اندر 2500 روپے، ارجنٹ کیٹیگری میں پندرہ دن کے اندر 1500 روپے اور نارمل کیٹیگری میں تیس دن کے اندر 750 روپے جمع کروانے ہوتے ہیں۔ مدت پوری ہونے کے بعد رسید دکھا کر نادرا سے کارڈ حاصل کیا جا سکتا ہے۔





