اکرام صدیقی
کالام: وادی کالام میں ممکنہ آپریشن کے خلاف عوام کی جانب سے احتجاج کیا گیا، جس میں مظاہرین نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ سیاحتی علاقے میں کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریز کیا جائے۔
احتجاج کے دوران کالام ہوٹل ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے کہا کہ مجوزہ آپریشن سیاحت دشمن اقدام ہے، جو مقامی کاروباری طبقے کے معاشی قتل کے مترادف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاحتی سیزن کے آغاز سے قبل اس طرح کے اقدامات سے علاقے کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور سیاحت متاثر ہوگی۔
بعد ازاں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محب اللہ نے مئیر بحرین، ایم پی اے میاں شرافت علی، کالام ہوٹل ایسوسی ایشن اور مقامی عمائدین کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کیے۔
یہ مذاکرات جرگے کی صورت میں ہوئے، جن میں فریقین نے اتفاق کیا کہ کسی بھی ممکنہ کارروائی سے قبل علاقے کی ڈی مارکیشن (حد بندی)کی جائے گی تاکہ تنازعہ حل ہوسکے۔
جرگے کے متفقہ فیصلے کے مطابق آج صبح 10 بجے نمائندہ کمیٹی کی سربراہی میں ڈی مارکیشن کا عمل شروع کیا جائے گا۔
ضلعی انتظامیہ اور مقامی نمائندوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس فیصلے سے حالات معمول پر آئیں گے اور عوامی اعتماد بحال ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : کالام میں اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ہوٹلز ایسوسی ایشن کا کامیاب مشاورتی جرگہ
کالام میں اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی (USDA) اور ہوٹلز ایسوسی ایشن کے درمیان صفائی، سیوریج نظام کی بہتری اور ماحولیاتی تحفظ پر جرگہ منعقد ہوا۔
ڈائریکٹر جنرل USDA شوزب عباس کی ہدایت پر ہونے والے اس اجلاس میں ڈپٹی ڈائریکٹر احمد شیر خان، اسسٹنٹ کمشنر تنزیل الرحمان ، کالام ہوٹلز ایسوسی ایشن کے نمائندگان اور مقامی عمائدین نے شرکت کی۔
اجلاس میں سیاحتی وادی کالام کی قدرتی خوبصورتی کو محفوظ رکھتے ہوئے سیاحوں کے لیے بہتر سہولیات فراہم کرنے اور ماحول دوست اقدامات کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔
ہوٹلوں کے سیفٹی ٹینکس اور سیوریج سسٹمز کے مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور فریقین نے تعاون کا عزم ظاہر کیا۔





