عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے 27 ویں آئینی ترمیم پر ووٹ دینے کی اپنی شرائط بتا دیں۔
ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ اگر آئینی مسودے میں ہماری رائے کا احترام کیا گیا تو آئینی ترمیم کو ووٹ دیں گے۔
ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ اگر آئینی ترمیم کے مسودے میں ان کی جماعت کی رائے کا احترام کیا گیا اور مجوزہ ترامیم عوام، صوبوں اور جمہوریت کے مفاد میں ہوئیں تو وہ یقیناً اس کے حق میں ووٹ دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آئینی مسودے میں ہمارا اشتراک ہوتا ہے، ہماری رائے کا احترام کیا جاتا ہے اور وہ عوام کی بہتری کے لیے ہے تو ہم ووٹ دیں گے لیکن اگر اس ترمیم سے عوام، صوبائی خودمختاری، اٹھارہویں ترمیم یا پارلیمان کی بالادستی کو نقصان پہنچا تو ہم اس کی حمایت نہیں کریں گے۔
ایمل ولی خان نے آئینی عدالت کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ آئینی عدالت قائم ہونی چاہیے لیکن اس کے لیے ایک واضح طریقہ کار ہونا چاہیے اور تمام صوبوں کا اس میں اشتراک اور برابری کی بنیاد پر نمائندگی ضروری ہے۔
ایک صحافی کے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ ان سے حکومت نے اس حوالے سے کوئی بات چیت کی ہےجس پرایمل ولی خان نے کہا کہ جی، ہمارے ساتھ ڈسکشن ہوتی رہتی ہے۔
صحافی نے پوچھا کہ آپ کے دو ووٹ ہیں، تو ایمل ولی خان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا آپ نے ایک ووٹ ختم کردیا؟ ہمارے سینیٹ میں تین ووٹ ہیں۔
آئین کے آرٹیکل 243 کے حوالے سے سوال پر ایمل ولی خان نے کہا کہ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ 243 میں کیا شقیں ہیں، ہماری کسی سے ذاتی لڑائی نہیں، ہماری لڑائی جمہوریت کی بالادستی کے لیے ہے، ہم گزشتہ سو سال سے جمہوریت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور یہ سفر جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل کا عہدہ تاحیات ہونا چاہیے، وزیر قانون کا بڑا بیان
انہوں نے مزید کہا کہ ان 100 سالوں میں کئی شکلیں بدل گئیں مگر ہم آج بھی اسی اصول پر قائم ہیں ، اگر اس جدوجہد میں کسی سے تعلقات خراب بھی ہوں تو ہمیں اس کی پرواہ نہیں۔
ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ انہیں اب تک آئینی ترمیم کا مسودہ موصول نہیں ہوا اور وہ شقوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی اپنی حتمی رائے دیں گے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے آئینی ترمیم کی حمایت سے متعلق سوال پر ایمل ولی خان نے کہا یہ آپ ان سے پوچھیں ہمیں ان کے فیصلے کا علم نہیں۔





