ایمل ولی سمیت عوامی نیشنل پارٹی( اے این پی) کے تینوں سینیٹرز نے 27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا ایمل ولی سمیت سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان سینیٹر ارباب نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا ۔
قبل ازیں ایمل ولی نے کہا کہ آج جو راستہ اختیار کیا جا رہا ہے وہ آنے والی نسلوں پر اثر ڈالے گا اور اکثریت کے ساتھ بڑی ذمہ داری بھی جڑی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ آر ٹی ایس اور 45 والی اکثریت جعلی ہے ولی خان اور اسفند ولی کے گھروں میں لال ٹوپی والے ایک مخصوص نظریے کے لوگ ملیں گے اگر اکثریت آئین کی بنیاد کمزور کرے تو نہ آئین محفوظ رہے گا نہ جمہوریت۔
صدر اے این پی کا کہنا تھاکہ ماضی میں مشکل وقت میں اہم فیصلے کیے گئے ۔ ہم سیاسی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں اور ووٹ صرف جماعت کے لیے نہیں بلکہ صوبے کے وسائل اور عوام کے تحفظ کے لیے دے رہے ہیں۔اس کی قیمت ہمیں ادا کرنی ہوگی اور صوبے کے وسائل پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔
انہوں نے کہاکہ ہماری سیاست ہمیشہ صوبے کو قومی دھارے میں لانے کی کوشش رہی ہے جب عوام نے فیصلہ دیا تو یہ ایک تاریخی فیصلہ ہوگا گزشتہ 12 برس میں سیاسی جماعتوں نے کھیل کھیلا، لیکن تینوں جماعتوں سے آئینی اور پرامن جواب لیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے کے بعد مستعفی
ایمل ولی کا کہنا تھا کہ ہمارا محور صرف آئین اور وفاق کی حفاظت ہے اور ہم تمام سیاسی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ کسی ایسی آئینی ترمیم کی اجازت نہ دی جائے جو آئین یا جمہوریت کو نقصان پہنچائے۔
واضح رہے کہ آج سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیمی بل کی 56 شقوں اور 3 شیڈولز کی منظوری دے دی جس کے حق میں 64 ارکان نے ووٹ دیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے 25، ن لیگ کے 20 اور 6 آزاد سینیٹرز نے بل کے حق میں ووٹ دیا۔ ایم کیو ایم کے 3، اے این پی کے 3، باپ کے 4 اور ق لیگ کے ایک سینیٹر نے بھی حمایت کی۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی (ف) کے سینیٹر احمد خان نے بھی آئینی ترمیم کی حمایت کی جبکہ باقی پی ٹی آئی، سنی اتحاد کونسل، ایم ڈبلیو ایم اور جے یو آئی (ف) کے سینیٹرز نےترمیم کی مخالفت کی۔
نیشنل پارٹی کے واحد سینیٹر جان محمد بلیدی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے اور چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے حقِ رائے دہی استعمال نہیں کیا۔
علاوہ ازیں ن لیگ کے سینیٹر عرفان صدیقی علالت کے باعث اجلاس میں موجود نہیں تھے۔





