محمد مجتبیٰ بٹ
اسلام آباد۔ پاکستان کرکٹ کے شائقین کے لیے خوشخبری ہے کہ 29 سال کے طویل انتظار کے بعد آئی سی سی ایونٹ پاکستان میں منعقد ہو رہا ہے۔ 19 فروری سے کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں شروع ہونے والے اس ایونٹ میں دنیا کی 8 بہترین کرکٹ ٹیمیں شرکت کریں گی۔
اس ایونٹ کو پاکستان کرکٹ کے لیے سنہری موقع قرار دیا جا رہا ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر اپنی کرکٹ کی طاقت کو منوائے، لیکن اس ایونٹ کا سب سے افسوسناک پہلو بھارتی ٹیم کا پاکستان نہ آنا ہے۔
جہاں دنیا کی چھ بڑی کرکٹ ٹیمیں پاکستان میں میچز کھیلنے پہنچ چکی ہیں، وہیں بھارتی ٹیم اپنے تمام میچز دبئی میں کھیلے گی۔
پاکستانی شائقین کرکٹ کی خواہش تھی کہ بھارتی ٹیم کے تمام میچز پاکستان میں ہوتے، لیکن بدقسمتی سے یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔
بھارتی ٹیم کا پاکستان آنا اس ایونٹ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر سکتا تھا، اور اس کے نہ آنے سے ایونٹ کے پرستاروں میں افسردگی ہے۔
چیمپیئنز ٹرافی 2025 کی ٹیمز اور فیورٹس
چیمپیئنز ٹرافی 2025 میں دنیا کی 8 بہترین کرکٹ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں اور ہر ٹیم اپنے بہترین کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں اُترے گی۔ اگر ہم فیورٹ ٹیموں کی بات کریں تو پاکستان، افغانستان، بھارت اور آسٹریلیا ممکنہ طور پر ٹاپ 4 ٹیمز میں شامل ہو سکتی ہیں۔
پاکستان
پاکستان کو ہوم ایڈوانٹیج حاصل ہے اور وہ دفاعی چیمپئن بھی ہے، اس لیے اس سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں۔ پاکستانی ٹیم اپنے ہوم گراؤنڈ پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی نے قومی کرکٹ ٹیم کے تین کھلاڑیوں پر جرمانہ عائد کردیا
بھارت
بھارتی ٹیم نے گزشتہ دو سالوں میں ون ڈے کرکٹ میں زبردست پرفارمنس دکھائی ہے، اور ان کی فارم اس ٹورنمنٹ میں اہم کردار ادا کرے گی۔
افغانستان
افغانستان کی ٹیم اپنی حالیہ کارکردگی اور کمبینیشن کے باعث فیورٹ نظر آ رہی ہے، اور ان کی نوجوان ٹیم کسی بھی بڑا اپ سیٹ دے سکتی ہے۔
آسٹریلیا
آسٹریلوی ٹیم پر کچھ سوالات ہیں، خاص طور پر پیٹ کمنز، جوش ہیزلووڈ، مچل مارش، مارکس سٹونس اور مچل سٹارک کی عدم دستیابی کے باوجود، آسٹریلیا بڑے ایونٹس میں سرپرائز دینے کے لیے جانا جاتا ہے۔
پاکستان کی ٹیم نے عالمی سطح پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، مگر ان کی کارکردگی غیر متوقع رہی ہے، کبھی دل کو خوش کر دینے والی تو کبھی مایوس کن۔ اگر پاکستان اس ایونٹ میں کامیاب ہوتا ہے، تو یہ نہ صرف کرکٹ کے شائقین کے لیے خوشی کا باعث بنے گا بلکہ عالمی کرکٹ میں پاکستان کی عزت کو مزید بلند کرے گا۔





