سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف اقدامات تیز، 22 ہزار سے زائد گرفتار

سعودی عرب میں حکام نے 6 سے 12 نومبر کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قوانین کی خلاف ورزی پر 22 ہزار 156 غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کیا ہے۔

سعودی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ان میں سے 14 ہزار 27 افراد اقامہ قوانین کی خلاف ورزی، 4 ہزار 781 غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش، اور 3 ہزار 348 افراد لیبر قوانین کی خلاف ورزی پر پکڑے گئے۔

علاوہ ازیں 1 ہزار 924 افراد کو غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کے الزام میں حراست میں لیا گیا، جن میں 62 فیصد ایتھوپین، 37 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ممالک کے شہری شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 32 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا جو سرحد عبور کر کے سعودی عرب سے ہمسایہ ممالک میں داخل ہونے کی کوشش میں تھے، جبکہ 31 دیگر افراد کو بھی حراست میں لیا گیا جو سفر، رہائش، روزگار یا پناہ فراہم کرنے کی کوشش میں ملوث تھے۔

مجموعی طور پر 30 ہزار 236 غیر قانونی تارکین کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے، جن میں 28 ہزار 407 مرد اور 1 ہزار 829 خواتین شامل ہیں۔

سعودی عرب میں غیر قانونی تارکین کو رہائش، ملازمت یا دیگر سہولیات فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس پر سخت قانونی سزائیں عائد کی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پشاور، جعلی پاکستانی دستاویزات کے ذریعے سعودی ویزا کی کوشش ناکام، 5 افغان شہری گرفتار

جعلی پاکستانی شناختی کارڈز کے ذریعے سعودی ورک ویزا حاصل کرنے کی کوشش ناکام، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے 5 افغان شہریوں کو گرفتار کرلیا۔

پشاور میںایف آئی اےنے غیر قانونی شناختی دستاویزات کے ذریعے سعودی عرب کا ویزا حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے پانچ افغان شہریوں کو گرفتار کر لیا۔

یہ کارروائی اسمگلنگ سرکل نے شہر کے دبگڑی میں واقع ایک نجی ہوٹل پر کی۔

ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان علی خان، اجمل، قاسم، احمد اور حمزہ ہیں، جو غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم تھے۔

ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمان نے جعلی طریقے سے پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کیا تھا۔

ملزمان نے ایف آئی اے کو بتایا کہ ان کا مقصد جعلی پاکستانی دستاویزات کے ذریعے سعودی عرب کا ورک ویزا حاصل کرنا تھا۔ کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے افغان دستاویزات اور جعلی پاکستانی شناختی کارڈز بھی برآمد کیے گئے۔

Scroll to Top