سلمان یوسفزئی
محکمہ صحت خیبر پختونخوا میں جعلی سینیارٹی لسٹ کے ذریعے ترقی حاصل کرنے کا انکشاف سامنے آیا ہے جس کے بعد معاملے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
محکمہ صحت نے ڈی جی ہیلتھ سروسز پشاور کے پروموشن سیل میں مبینہ غیرقانونی کارروائیوں کے حوالے سے فوری انکوائری کا حکم جاری کر دیا ہے۔
ترقیوں میں بے ضابطگیوں اور شکایات موصول ہونے پر محکمہ نے دو رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے جس کی سربراہی ایڈیشنل سیکرٹری ایم ٹی آئی پیر محمد خان کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف اقدامات تیز، 22 ہزار سے زائد گرفتار
کمیٹی کے اعلامیے کے مطابق سینیارٹی لسٹ میں مبینہ تبدیلیوں، جعل سازی اور غیرقانونی طریقۂ کار کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے گی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ کمیٹی اپنی حتمی رپورٹ 15 روز کے اندر محکمہ صحت کو جمع کروائے گی۔
ابتدائی کارروائی کے طور پر کمیٹی نے پروموشن سیل کے ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، کلرک اور کمپیوٹر آپریٹر کو طلب کر کے ان کے بیانات قلم بند کرنا شروع کر دیے ہیں۔ متعلقہ افسران کو 14 نومبر کو مکمل ریکارڈ کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور: 347 طلبہ میں 64 ملین روپے کی اسکالرشپس تقسیم
دستاویزات کے مطابق ڈی جی ہیلتھ سروسز کی سطح پر اس معاملے پر پہلے بھی ایک انکوائری کی جا چکی ہے اور اس کی رپورٹ 26 ستمبر کو جمع کرائی گئی تھی۔
نئی قائم کردہ کمیٹی کو یہ رپورٹ فراہم کر دی گئی ہے تاکہ اس کی روشنی میں آگے کی قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جا سکے۔
محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار ثابت ہونے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔





