این ایف سی ایوارڈ: اضافی فنڈز کے باوجود خیبر پختونخوا اور بلوچستان پیچھے کیوں؟ اہم حقائق سامنے آگئے

اسلام آباد: پاکستان میں اضلاع کی انسانی ترقی، بنیادی سہولیات تک رسائی اور سماجی کمزوریوں سے متعلق نئی رپورٹ کے مطابق پنجاب مجموعی صورتحال میں سب سے بہتر جبکہ بلوچستان انتہائی پسماندہ صوبہ قرار پایا ہے۔

ڈسٹرکٹ ولنرایبلٹی انڈیکس فار پاکستان کی رپورٹ وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب اور وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مصدق ملک نے جاری کی۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب میں کسی ضلع کو انتہائی کمزور قرار نہیں دیا گیا جبکہ کم کمزور اضلاع کی نمایاں تعداد بھی پنجاب میں ہے۔

اس کے برعکس بلوچستان میں ایک بھی ضلع کم کمزور کیٹیگری میں شامل نہیں اور 20 انتہائی کمزور اضلاع میں سے 17 کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ دو سابق فاٹا اور ایک سندھ کا ضلع بھی انتہائی کمزور فہرست میں شامل ہیں۔

رپورٹ نے نشاندہی کی کہ صوبائی دارالحکومتوں کا مالی وسائل پر شدید کنٹرول پسماندگی کو بڑھا رہا ہے اور اضلاع کو براہ راست وسائل کی فراہمی ناگزیر ہے۔

اسی کے ساتھ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو ملنے والے کھربوں روپے کے مؤثر استعمال پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں، جن کے مطابق اضافی رقوم مقامی آبادیوں پر خرچ ہونے کے بجائے وفاقی قرضوں کی ادائیگی میں استعمال ہو رہی ہیں۔

رپورٹ چھ شعبوں رہائش، ذرائع معاش، کمیونیکیشن، ٹرانسپورٹ، صحت و تعلیم تک رسائی اور شرح پیدائش— کو بنیاد بنا کر اضلاع کی درجہ بندی کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ نے سعودی عرب کو جدید لڑاکا طیارے دینے کا اعلان کر دیا

بہتر کارکردگی والے اضلاع میں کراچی کے چار اضلاع اور لاہور شامل ہیں جنہیں ملک کے مرکزی انفراسٹرکچر سے مضبوط روابط حاصل ہیں۔

وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے آگاہ کیا کہ ملک کی 11.3 فیصد آبادی— یعنی تقریباً ایک کروڑ افراد— 20 انتہائی کمزور اضلاع میں رہتی ہے جن میں لاکھوں خواتین اور پانچ سال سے کم عمر بچے شامل ہیں۔

ان اضلاع کی 65 فیصد آبادی کچے یا عارضی گھروں میں رہتی ہے، نصف کے پاس ٹائلٹ کی سہولت نہیں اور 40 فیصد صاف پانی سے محروم ہے۔

رپورٹ کے مطابق بے روزگاری سے شدید متاثر 20 میں سے 15 اضلاع بلوچستان میں ہیں۔ پکی سڑکوں، ٹرانسپورٹ اور ٹیلیفون سروسز تک رسائی کا فقدان بھی ان علاقوں میں عام ہے۔

صحت کی سہولتوں کے حوالے سے بلوچستان اور خیبرپختونخوا دونوں صوبے کمزور قرار پائے ہیں جہاں طویل فاصلے، صحت مراکز کی کمی اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کی محدود رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مدینہ منورہ سے افسوسناک خبر : 11 بچوں سمیت 42 عمرہ زائرین جاں بحق

تعلیم کے شعبے میں کراچی کو اسکولوں تک بہتر رسائی کے باعث برتری حاصل ہے، جبکہ بلوچستان انفراسٹرکچر کی کمی کے باعث سب سے پیچھے ہے۔

شرح پیدائش کے حوالے سے بھی بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی کارکردگی کمزور ہے، تاہم سب سے کمزور ضلع سندھ کا تھرپارکر قرار پایا ہے۔

مصدق ملک نے خبردار کیا کہ صاف پانی، تعلیم اور محفوظ رہائش بنیادی حقوق ہیں اور ملک میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات فوری توجہ کی متقاضی ہے۔

Scroll to Top