پر امن ضمنی انتخابات، کم ٹرن آؤٹ کے پیچھے متعدد وجوہات، چیف الیکشن کمشنر

اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا ہے کہ ملک بھر میں ہونے والے ضمنی انتخابات پرامن ماحول میں مکمل ہوئے اور الیکشن کمیشن کو کوئی غیر معمولی شکایات موصول نہیں ہوئیں۔

انہوں نے یہ گفتگو وفاقی دارالحکومت میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کی۔

چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومتوں نے الیکشن کے انتظامی امور میں بھرپور تعاون کیا، جس کے باعث انتخابی عمل بغیر کسی بڑے واقعے کے مکمل ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں ٹرن آؤٹ عموماً کم رہتا ہے اور اس بار بھی مختلف عوامل کی وجہ سے ووٹ ڈالنے کا تناسب کم رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس الیکشن میں اسمبلی کی نمبر گیم پر کوئی اثر نہیں پڑنا تھا، جس سے عوامی دلچسپی بھی محدود رہی۔

سکندر سلطان راجہ نے مزید بتایا کہ ڈی آراوز کی جانب سے چند رپورٹس موصول ہوئی ہیں جبکہ کچھ معاملات پر الیکشن کمیشن نے خود بھی نوٹس لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کے انتخابات میں کوئی نمایاں یا غیر معمولی شکایت سامنے نہیں آئی۔ طلال چوہدری کو آج کمیشن نے طلب کیا ہے اور کیس کی سماعت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں : ضمنی انتخابات میں عوام کا مسلم لیگ ن پر اعتماد،نواز شریف اور مریم نواز کی قیادت کا ثمر قرار

چیف الیکشن کمشنر نے وضاحت کی کہ لوکل گورنمنٹ انتخابات کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ایک وزیر اور ایک امیدوار کو نااہل بھی کیا گیا تھا، جو اس بات کی مثال ہے کہ الیکشن قوانین پر سختی سے عمل کرایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں انتخابی بے ضابطگیاں ہوتی ہیں، تاہم ہر معاملہ قانونی طریقہ کار کے تحت دیکھا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن ضرورت کے مطابق اپنی سفارشات حکومت کو بھجواتا رہتا ہے، البتہ کمیشن کے پاس الیکشن ٹربیونل کو براہ راست ہدایات جاری کرنے کا اختیار نہیں۔

Scroll to Top