قبائلی اضلاع میں خوشحالی اور ترقی کا انحصار امن کی بحالی پر ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع میں خوشحالی اور ترقی کا حصول صرف امن کی بحالی کے بعد ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امن اس وقت صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ اور اولین ترجیح ہے، اور اسی کے بغیر ترقی اور خوشحالی کے خواب پورے نہیں ہو سکتے۔

یہ بیان انہوں نے مہمند عمائدین کے وفد سے ملاقات کے دوران دیا۔ وفد کے ارکان نے صوبائی حقوق کے حصول اور امن کی بحالی کی جدوجہد میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا اور ان کی غیر متزلزل قیادت پر خراج تحسین پیش کیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کے وقت دس سال کے لیے ایک ہزار ارب روپے دینے کا وعدہ وفاق نے پورا نہیں کیا، جس کی وجہ سے قبائلی اضلاع میں ترقیاتی منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت کے اربوں روپے کے بقایاجات اب بھی وفاق کے ذمہ واجب الادا ہیں اور صوبائی حکومت ان حقوق کو حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔

سہیل آفریدی نے بتایا کہ ضم شدہ اضلاع میں تعلیمی ترقی کے لیے یونیورسٹی کے قیام کے ساتھ ساتھ میڈیکل اور نرسنگ کالجز بھی قائم کیے جائیں گے تاکہ نوجوان نسل کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

وزیر اعلیٰ نے پشاور میں صوبائی اسمبلی میں خیبرپختونخوا گرینڈ امن جرگے کی کامیابی کی بھی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جرگے میں شریک تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز نے متفقہ اعلامیہ جاری کیا اور امن کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت قبائلی اضلاع کے حقوق دلانے، امن قائم کرنے اور ترقیاتی منصوبوں کو مؤثر بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور عوام کے ساتھ شفافیت اور تعاون کے اصولوں پر کام کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : افغانستان کی جانب سے پاکستانی حملوں کا دعوی جھوٹا پراپیگنڈا ہے ،سیکیورٹی ذرائع

Scroll to Top