وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی الیکشن کمیشن پہنچ گئے، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کیس کی سماعت آج ہوگی
تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی آج الیکشن کمیشن آف پاکستان پہنچ گئے جہاں ان کے خلاف ضمنی انتخاب میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے نوٹس کی سماعت ہوگی
الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو این اے 18 ہری پور ضمنی انتخابات کے دوران انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور الیکشن عملے کو دھمکانے کے الزامات کے تحت طلب کیا تھا۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ اس کیس کی سماعت کرے گا۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ کے خلاف نوٹس جاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ سہیل آفریدی نے جلسے کے دوران ضلعی انتظامیہ، پولیس اور الیکشن افسران کو دھمکی دی۔ نوٹس میں مزید کہا گیا کہ وزیر اعلیٰ کے اس فعل کے باعث الیکشن کمیشن کے افسران کی جان کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے ساتھ ایک مفرور مجرم بھی موجود تھا۔
ذرائع کے مطابق، وزیر اعلیٰ کی دھمکی کے بعد الیکشن کمیشن نے این اے 18 ہری پور میں ضمنی انتخاب کے لیے فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی کی سفارش کی تھی تاکہ انتخابی عمل کے دوران کسی بھی قسم کے خطرے کو ختم کیا جا سکے۔
سیکریٹری الیکشن کمیشن نے سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری دفاع کو لکھے گئے خطوط میں کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے عمل کی وجہ سے انتخابی عملے کی حفاظت کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے اور فوری اقدامات کیے جائیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ سماعت نہ صرف وزیر اعلیٰ کی ذاتی قانونی حیثیت کے لیے اہم ہے بلکہ این اے 18 ہری پور ضمنی انتخاب کے شفاف انعقاد کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔





