ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ،بارودی مواد کی مقدار اور حملے کی نوعیت سے متعلق بی ڈی یو کی رپورٹ سامنے آگئی
فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر 24 نومبر کو ہونے والے دہشتگرد حملے سے متعلق بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی یو) کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس میں حملے کی منصوبہ بندی، استعمال ہونے والے بارودی مواد اور جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کے بارے میں اہم انکشافات کیے گئے ہیں۔
بی ڈی یو رپورٹ کے مطابق حملے میں 20 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا، جو تین خودکش جیکٹس میں نصب تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ جیکٹس روسی اور امریکی ساختہ تھیں، جن میں بارودی مواد کو زیادہ تباہی پیدا کرنے کے لیے آگے اور پیچھے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق خودکش جیکٹس کے ٹکڑوں سے واضح ہوتا ہے کہ دھماکے کا اثر 30 میٹر تک نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ بی ڈی یو کا کہنا ہے کہ حملہ مکمل طور پر خودکش نوعیت کا تھا اور ریموٹ کنٹرول کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد
بی ڈی یو ٹیم نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کیے، جن میں:
8 دستی بموں کے ٹکڑے
2 ملی میٹر سائز کے بال بیرنگ
2 فٹ لمبا پرائما کارڈ
درمیان سے کٹی ہوئی 2 فٹ تار
شامل ہیں۔ یہ تمام شواہد لیبارٹری تجزیہ کے لیے جمع کروا دیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خودکش جیکٹس انتہائی مہارت سے تیار کی گئیں، جن کا مقصد زیادہ سے زیادہ جانی و مالی نقصان پہنچانا تھا۔ تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت جوابی کارروائی نے ایک بڑے سانحے کو رکنے میں اہم کردار ادا کیا۔
جانی نقصان
بی ڈی یو رپورٹ کے مطابق حملے میں:
ایف سی کے 3 جوان شہید ہوئے
5 جوان اور 8 شہری زخمی ہوئے
حکام کا کہنا ہے کہ حملہ منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا اور دہشتگردوں نے ایف سی ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنانے کے لیے بھاری بارود اور جدید خودکش جیکٹس استعمال کیں۔
واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ سیکیورٹی ادارے حملے کے ماسٹر مائنڈ اور سہولت کاروں تک پہنچنے کے لیے سرگرم ہیں۔





